حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 310
پنجاب میں بسر کرے۔جاڑا لگے تو کہہ دے میرا لحاف کشمیر میں ہے۔:یہ لوگ ایک غلط رسم میں مبتلا تھے۔ان میں کوئی سو جاتا تو پھر رات کو نہ کھانا کھاتا نہ بیوی سے جماع کرتا۔فرمایا اﷲ نے تم پر فضل کیا۔مغرب کے بعد سو جائے تو اُٹھ کر کھانا کھا وے کیا کرنے کی ممانعت نہیں۔:ایک شخص نے ایک دفعہ کہا کہ صبح صادق ایک انتظامی بات ہے پانچ منٹ اِدھر ہو گئے تو کیا اور اگر اُدھر ہو گئے تو کیا۔اﷲ تعالیٰ نے عجیب طور سے اسے اس کا جواب سمجھایا۔وہ جُولاہا تھا۔اُسے خواب آیا کہ مَیں تانی پھَیلارہا ہوں مگر ایک طرف سے میخ کے ساتھ باندھنے میں پانچ اُنگلی کا فرق رہ گیا ہے اور وہ چِلّا رہا ہے یا تو میخ کو ادھر کر دویا رسّہ کو لمبا کرو ورنہ میری تانی بگڑتی ہے اور کوئی اسے کہہ رہا ہے کیا ہؤا صرف پانچ اُنگلی کا فرق ہے۔اس پر اس کی جاگ کُھلی اور بہت نادم ہؤا اور اسےِکے معنے سمجھ میں آئے۔ُ:واقعی یہ طریق عوام و خواص کو سمجھانے کا کب آتا ہے جو اﷲ تعالیٰ نے فرمایا۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۸؍اپریل ۱۹۰۹ء) : فرمایا ہے کہ ہم نے یہ سارا عِلم حصولِ تقوٰی کے لئے بیان کیا ہے پس تم مالی معاملات میں وہ راہ اختیار کرو جو خدا کو پسند ہے۔مجھے افسوس آتا ہے اِس ملک کے لوگوں پر۔یُوں تو چُوہڑوں کی نسبت مشہور ہے کہ ان کا چھُرا حلال و حرام پر چلتا ہے مگر مَیں کہتا ہوں کئی گھر مسلمانوں کے چُوہڑوں کے گھر بن رہے ہیں۔ایک ضرب المثل ہے، ضرب المثل کہنا تو نہیں چاہیئے کیونکہ اس کے کہنے والے تو حکماء ہوتے ہیں۔یہ کِسی سفیہ کا قول ہے کہ دُنیا کما کھائے مَکر سے اور روٹی کھائے شکر سے۔یہ بالکل ایک گندہ