حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 308 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 308

 (البقرۃ:۱۸۴)اور دومؔ یہ کہ انسان کو خدا کا قُرب حاصل ہو جاتا ہے۔اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے مَیں بہت قریب ہو جاتا ہوں اور دعائیں قبول کرتا ہوں۔: اِس کے یہ معنے نہیں کہ جو مانگو وہی ملے۔کیونکہ دوسرے مقام پر فرما دیا۔جواب سورۃ انعام( آیت ۴۲) میں ہے  ۔یعنی اگر چاہے تو اس مصیبت کو ہٹا دیتا ہے۔یہاں بھی اَلْ کے ساتھ اِس طرف اشارہ کر دیا ہے۔:فرمایا ہے یعنی جس قدر تم میرے فرمانبردار ہوتے جاؤ گے ایمان میں ترقّی کرتے جاؤ گے اُسی قدر مَیں دعائیں قبول کروں گا۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۸؍اپریل ۱۹۰۹ء) روزہ جیسے تقوٰی سیکھنے کا ایک ذریعہ ہے ویسے ہی قُربِ الہٰی حاصل کرنے کا بھی ذریعہ ہے اِسی لئے اﷲ تعالیٰ نے ماہِ رمضان کا ذکر فرماتے ہوئے ساتھ ہی یہ بھی بیان کیا ہے۔ ۔یہ ماہِ رمضان کی ہی شان میں فرمایا گیا ہے اور اِس سے اِس ماہ کی عظمت اور سرِّالہٰی کا پتہ لگتا ہے کہ اگر وہ اِس ماہ میں دعائیں مانگیں تو مَیں قبول کروں گا لیکن ان کو چاہیئے کہ میری باتوں کو قبول کریں اور مجھے مانیں۔اِنسان جس قدر خدا کی باتیں ماننے میں قوی ہوتا ہے خدا بھی ویسے ہی اس کی باتیں مانتا ہے۔ سے معلوم ہوتا ہے کہ اِس ماہ کو رُشد سے بھی خاص تعلق ہے اور اس کا ذریعہ خدا پر ایمان ،اُس کے احکام کی اتّباع اور دُعا کو قرار دیا ہے۔اَور بھی باتیں ہیں جن سے قُرب الہٰی حاصل ہوتا ہے۔(الحکم ۲۴؍جنوری ۱۹۰۴ء صفحہ ۱۲) اگر لوگ پوچھیں کہ روزہ سے کیسے قُرب حاصل ہو سکتا ہے تو کہہ دے ۔یعنی مَیں قریب ہوں اور اِس مہینہ میں دعائیں کرنے والوں کی دعائیں سُنتا ہوں۔چاہیئے کہ پہلے وہ ان احکاموں پر عمل کریں جن کا مَیں نے حکم دیا اور ایمان حاصل کریں تاکہ وہ مراد کو پہنچ سکیں اور اِس طرح سے بہت ترقی ہو گی۔(الحکم۱۷؍نومبر۱۹۰۷ء صفحہ۵)