حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 307 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 307

ہے۔رمضان کے مہینہ میںدعاؤں کی کثرت، تدریسِ قُرآن، قیام رمضان کا ضروری خیال رکھنا چاہیئے۔حدیث شریف میں لکھا ہے مَنْ صَامَ رَمَضَانَ اِیْمَانًا وَّاحْتِسَابًا غُفِرَلَہ‘ مَاتَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٖ۔(بخاری۔کتاب الایمان باب صَعْمُ رَمَضَانَ احْتَسَابًا مِنَ الْاِیمَانِ)مگر افسوس کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ رمضان میں خرچ بڑھ جاتا ہے حالانکہ یہ بات غلط ہے۔اصل بات یہ ہے کہ وہ لوگ روزہ کی حقیقت سے بے خبر ہیں۔سحر گی کے وقت اِتنا پیٹ بھر کر کھاتے ہیں کہ دوپہر تک ہدہضمی کے ڈکار ہی آتے رہتے ہیں اور مشکل سے جو کھانا ہضم ہونے کے قریب پہنچا بھی تو پھر افطار کے وقت عمدہ عمدہ کھانے پکوا کے وہ اندھیرمارا اور ایسی شِکم پُری کی کہ وحشیوں کی طرح نیند پر نیند اور سُستی پر سُستی آنے لگی۔اِتنا خیال نہیں کرتے کہ روزہ تو نفس کے لئے ایک مجاہدہ تھا نہ یہ کہ آگے سے بھی زیادہ بڑھ چڑھ کر خرچ کیا جاوے اور خوب پیٹ پُر کر کے کھایا جاوے۔یاد رکھو اِسی مہینہ میں ہی قُرآنِ مجید نازل ہونا شروع ہؤا تھا اور قرآن مجید لوگوں کے لئے ہدایت اور نور ہے اسی کی ہدایت کے بموجب عمل درآمد کرنا چاہیئے روزہ سے فارغ البالی پیدا ہوتی ہے اور دُنیا کے کاموں میں سُکھ کرنے کی راہیں حاصل ہوتی ہیں۔آرام تو یا مَر کر حاصل ہوتا ہے یا بدیوں سے بچ کر حاصل ہوتا ہے۔اِس لئے روزہ سے بھی سُکھ حاصل ہوتا ہے اور اس سے انسان قُرب حاصل کر سکتا اور متّقی بن سکتا ہے اور اگر لوگ پوچھیںکہ روزہ سے کیسے قُرب حاصل ہو سکتا ہے تو کہہ دے ِ الخ (الحکم ۱۷؍نومبر ۱۹۰۷ء صفحہ۵)   یعنی جب میرے بندے میرے بارے میں پوچھیں کہ وہ کہاں ہے پس جواب یہ ہے کہ ایسا نزدیک ہوں کہ مجھ سے زیادہ کوئی نزدیک نہیں۔جو شخص مجھ پر ایمان لا کر مجھے پکارتا ہے تو مَیں اس کا جواب دیتا ہوں۔(نورالدین صفحہ۴۳) :اگر لوگ یہ سوال کریںں کہ روزوں سے کیا فائدہ ہوتا ہے تو ایک تو یہاں