حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 306
کے تھے اور وہیں پہلی سورۃ کا جزو نازل ہؤا۔اِس پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ اگر رمضان اِس لئے فضیلت کا مہینہ ہے کہ اس میں قرآن کا کوئی جزو نازل ہؤا تو اس فضیلت میں دوسرے مہینے بھی شامل ہیں۔اِس لئے گو یہ دوسرے معنے بھی بہت سچّ ہے کہ وہ رمضان جس کے بارے میں قرآن شریف نازل ہؤا مگر شروع نزول ایک رنگ رکھتا ہے۔: کھُلے ہدایت نامے۔: قرآن سے مجھے اِس کے یہ معنے معلوم ہوئے کہ فرقان نام ہے اُس فتح کا جسکے بعد دشمن کی کمر ٹوٹ جائے اور یہ بدرؔ کا دن تھا۔غزوۂ بدر بھی ماہِ رمضان میں ہؤا ہے۔غرض رمضان المبارک کیا بلحاظ فتوحاتِ دُنیاوی اور کیا باعتبار ابتداء نزولِ قرآنی یا تاکیدِ قرآنی ہر طرح قابلِ حُرمت ہے۔(ضمیمہ اخبارِ بدرؔ قادیان ۸؍اپریل ۱۹۰۹ء) : اسی کے متعلق قرآن نازل ہؤا۔قرآن میں روزے کی تاکید ہے۔قرآن روزوں میں شروع ہوا۔دونوں معنی صحیح۔: مسافر نہ ہو بلکہ حاضر۔(تشحیذالاذہان جلد ۸ نمبر۹ صفحہ ۴۴۱) رمضان کے دن بڑے بابرکت دن ہیں… اﷲ تعالیٰ نے اِس مہینے میں خاص احکام دیئے ہیں اور ان پر عمل کرنے کی خاص تاکید کی ہے۔جو لوگ مسافر ہیں یا بیمار ہیں ان کو تو سفر کے بعد اور بیماری سے صحت یاب ہو کر روزے رکھنے کا حکم ہے مگر دوسرے لوگوں کو دن کے وقت کھانا پینا اور بیوی سے جماع کرنا منع ہے۔کھانا پینا بقائے شخص کے لئے نہایت ضروری ہے اور جماع کرنا بقائے نوع کے لئے سخت ضروری ہے۔اِس مہینہ میں خدا تعالیٰ نے دن کے وقت ایسی ضروری چیزوں سے رُکے رہنے کا حکم دیا تھا۔اِن چیزوں سے بڑھ کر اَور کوئی چیزیں ضروری نہیں۔بیشک سانس لینا ایک نہایت ضروری چیز ہے مگر انسان اِس کو چھوڑ نہیں سکتا۔اﷲ تعالیٰ نے یہ مہینہ اِسی واسطے بنایا ہے کہ جب انسان گیارہ مہینے سب کام کرتا ہے اور کھانے پینے، بیوی سے جماع کرنے میں مصروف رہتا ہے تو پھر ایسی ضروری چیزوں کو صرف دن کے وقت خدا تعالیٰ کے حکم سے ایک ماہ کے لئے ترک کر دے تو پھر دیکھو جہاں ایک طرف ان ضروری اشیاء سے منع کیا ہے دوسری طرف تدریس قرآن، قیامِ رمضان اور صدقہ وغیرہ کا حکم دیا ہے اور اس میں یہ بات سمجھائی ہے کہ جب ضروری چیزیں چھوڑ کر غیر ضروری چیزوں کو خدا کے حکم سے اختیار کیا جاتا ہے تاپھر کیا وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے حکم کے برخلاف غیر ضروری چیزوں کو حاصل کیا جاتا