حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 302
پھر ایّامِ بیض ( ۱۲،۱۳،۱۴) میں بھی روزہ رکھتے۔گویا ہر مہینے میں بالاوسط دس دن۔اِس حساب سے روزہ کے لئے سال کے چار ماہ ہوتے ہیں۔اب خیال کرو کہ جو لوگ چار ماہ یہ مشَق کرتے ہیں وہ رشوت کیونکر لیں گے۔اکل بالباطل کیوں کریں۔کوئی ضرورت انسان کو ان ضرورتوں سے بڑھ کر پیش نہیں آ سکتی جو بقائِ شخصی و بقائِ نوعی کے لئے ضروری ہیں۔جب ان ضرورتوں میں باوجود سامانوں کے مہیّا ہونے اور کسی روک کے نہ ہونے کے صرف اﷲ کی فرمانبرداری کے لئے محترِز رہا ہے تو پھر ایک صریح حرام امر کا کیوں مُرتکب ہونے لگا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۸؍اپریل ۱۹۰۹ء) سب کے بعد تقوٰی کی وہ راہ ہے جس کا نام روزہ ہے جس میں انسان شخصی اور نوعی ضرورتوں کو اﷲ تعالیٰ کے لئے ایک وقتِ معیّن تک چھوڑتا ہے۔اَب دیکھ لو کہ جب ضروری چیزوں کو ایک وقت ترک کرتا ہے تو غیر ضروری کو استعمال کیوں کرے گا۔روزہ کی غرض اور غایت یہی ہے کہ غیر ضروری چیزوں میں اﷲ کو ناراض نہ کرے اِسی لئے فرمایا لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ۔(الحکم ۲۴؍جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ۱۵) روزہ کی حقیقت کہ اس سے نفس پر قابوحاصل ہوتا ہے اور انسان متّقی بن جاتا ہے۔اِس سے پیشتر کے رکوع میں رمضان شریف کے متعلق یہ بات مذکور ہے کہ انسان کو جو ضرورتیں پیش آتی ہیں ان میں سے بعض تو شخصی ہوتی ہیں اور بعض نوعی اور بقائے نسل کی شخصی ضرورتوں میں جیسے کھانا پینا ہے اور نوعی ضرورت جیسے نسل کے لئے بیوی سے تعلق۔ان دونوں قِسم کی طبعی ضرورتوں پر قدرت حاصل کرنے کی راہ روزہ سکھاتا ہے اور اس کی حقیقت یہی ہے کہ انسان متّقی بننا سیکھ لیوے۔آجکل تو دن چھوٹے ہیں۔سردی کا موسم ہے اور ماہِ رمضان بہت آسانی سے گذرا مگر گرمی میں جو لوگ روزہ رکھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ بھُوک پیاس کا کیا حال ہوتا ہے اور جوانوں کو اِس بات کا عِلم ہوتا ہے کہ اُن کو بیوی کی ( بیویوں کی) کِس قدر ضرورت پیش آتی ہے۔جب گرمی کے موسم میں انسان کو پیاس لگتی ہے۔ہونٹ خشک ہوتے ہیں۔گھر میں دُودھ، برف، مزہ دار شربت موجود ہیں مگر ایک روزہ دار ان کو نہیں پیتا۔کیوں؟ اِس لئے کہ اس کے مَولیٰ کریم کی اجازت نہیں کہ ان کو استعمال کرے۔بھُوک لگتی ہے ہر ایک قِسم کی نعمت زردہ ، پلاؤ ،قورمہ ،فرنی وغیرہ گھر میں موجود ہیں اگر نہ ہوں تو ایک آن میں اشارہ سے تیار ہو سکتے ہیں مگر روزہ دار ان کی طرف ہاتھ نہیں بڑھاتا۔کیوں ؟ صرف اِس لئے کہ اس کے مَولیٰ کریم کی اجازت نہیں۔شہوت