حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 301 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 301

  :اِس حکمِ وصیّت میں ایک اَور وصیّت کا ذکر ہے بالفاظ مِنْ بَعْدِ وَصِیَّۃٍ (النّسآء:۱۲)پس اِس وصیّت میں اگر کوئی کجی کرے تو اس کی اصلاح کر لی جائے۔ کے معنے غَیْرَ مُتَجَانِفٍ لِاِثْمٍ (المائدۃ:۴)سے ظاہر ہوتے ہیں یعنی نہ ۱؎ یعنی ورثہ نہ دینے کا مرتّب جھُکنے والا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۸؍اپریل ۱۹۰۹ء)   : اِس میں رمضان کا ذکر نہیں فرمایا تمہید ہے۔(تشحیذالاذہان جلد نمبر ۹ صفحہ ۴۴۱) : روزوں کی فلاسفی یہ ہے کہ انسان کو دو چیزوں کی بہت ضرورت ہے ایکؔ بقائِ شخصی کے لئے غذا کی۔دومؔ بقاء نوعی کے لئے بیوی کی۔اب دیکھو انسان گھر میں تنہا بیٹھا ہے۔پیاس بڑی شدّت سے محسوس ہو رہی ہے۔دودھ موجود ہے برف موجود ہے۔شربت حاضر ہے کوئی روکنے والا بھی نہیں مگر پھر بھی سچّا روزہ دارمطلق ان چیزوں کے کھانے کا ارادہ تک نہیں کرتا۔اِسی طرح بیوی پاس ہے کوئی چیز مانع بھی نہیں مگر پھر بھی وہ اس سے محترز ہے۔یہ کیوں؟ محض اِس لئے کہ روزہ دار ہے اور اس کے مَولیٰ کا حکم ہے کہ ان دونوں چیزوں سے رُکار ہے۔یہ مشاقی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ باوجود سامانوں کے مہیّا ہونے اور ضرورت کے ہم اُن چیزوں سے رُکے رہیں جن سے رُکے رہنے کی نسبت اﷲتعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے۔اِسلام میں ہر سال ایک ماہ تو بِالالتزام یہ مشق کرائی جاتی ہے اور ایک طرح سے چار ماہ کے لئے یہ مشق ہوتی ہے کیونکہ عادتِ نبوی تھی کہ ہر دو شنبہ اور جمعہ کو روزہ رکھتے