حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 300 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 300

یہ ہوں کہ موت آہی جائے تو پھر یُوں معنے ہوں گے کہ لکھی گئی ہے تمہارے لئے وصیّت جو والدین اور اقارب کے متعلق ہے وہ بالکل مناسب ہے اور حق ہے متّقیوں پر کہ اس کے مطابق عمل درآمد کرو۔وہ وصیّت کہاں لکھی ہے ؟ دیکھیے النّساء آیت ۱۲ یُوَصِیْکُمُ اﷲُ۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۸؍اپریل ۱۹۰۹ء)   : فرماتا ہے کہ ہم علیم خدا ہیں۔سمجھ بُوجھ کرحصص مقرر کئے ہیں اور وصیّتوں کے بدلانے کو بھی سُنتے ہیں چنانچہ فرماتا ہے (النّساء:۱۵) : اب سُن لو کہ کیا کچھ تبدیل کیا گیا ہے۔سب سے اوّل تو یہ کہ لڑکیوں کو ورثہ نہیں دیا جاتا۔خدا تعالیٰ نے عورت کو بھیحَرْثَ فرمایا ہے اور زمین کو بھی۔ایسا ہی زمین کو بھی ارضؔفرماتا ہے اور عورتوں کو بھی۔:چنانچہ اِس کا نتیجہ دیکھ لو کہ جب سے ان لوگوں نے لڑکیوں کا ورثہ دینا چھوڑا ہے ان کی زمینیں ہندوؤں کی ہو گئی ہیں۔جو ایک وقت سَو گھماؤں زمین کے مالک تھے اب دو بیگھہ کے بھی نہیں رہے۔یہ اِس لئے کہصریحاًالنّساء آیت ۱۵ میں فرمایا اِس سے زیادہ اَور کیا ذلّت ہو گی۔عورتوں پر جو ظلم ہو رہا ہے وہ بہت بڑھ گیا ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے(البقرۃ:۲۳۲) دوسراؔ(النّساء:۲۰)تیسراؔ (الطلاق:۷)چوتھاؔ(النّساء:۲۰) پنجمؔ(البقرۃ:۲۲۹)باوجود اس کے وراثت ۱؎ کا ظلم بہت بڑھ رہا ہے۔پھر دوسرا یہ کہ بعض ظالم عورت کو نہ رکھتے ہیں نہ طلاق دیتے ہیں۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۸؍اپریل ۱۹۰۹ء)