حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 299
:صاحبانِ عقل کو خصوصیّت سے خطاب فرمایا کیونکہ اِس راز کو موٹی عقلیں نہیں سمجھ سکتیں۔کیونکہ بدلہ لینا ہر کَس و ناکس کا کام نہیں ہے بلکہ شریعت کے بہت سے ایسے کام ہیں جو انسان کی اپنی ذات سے وابستہ ہیں۔بہت سے ایسے ہیں جو حکّام سے مخصوص ہیں۔جن لوگوں نے اِس بھید کو نہیں سمجھا انہوں نے نقصان اُٹھایا۔اﷲ تعالیٰ نے ایک اَور مقام پر فرمایا وَ (النّساء:۶۰)جو لوگ حُکّام کی پابندی نہیں کرتے وہ خطرے میں ہیں۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان یکم اپریل ۱۹۰۹ء) :اِس رکوع میں تقوٰی کی بات چلی ہوئی ہے۔لَیْسَ الْبِرَّمیںتقوٰی کے اصول بتائے ہیں اَب قصاص کے حکم میں فرماتا ہے کہ ہے یہ جانوں کے متعلق تقوٰی کا جو بیان فرمایا۔اَب مال کے متعلق جو تقوٰی ہے وہ ( اگلی آیت میں ) بیان کرتا ہے۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۸؍اپریل ۱۹۰۹ء) : حاضر ہونے کی دو صورتیں ہیں ایکؔ شدّتِ بیماری۔دومؔ یہ کہ موت ہی آ جائے۔پس ایک شِق کے لحاظ سے تو یہ معنے ہوئے کہ جب کوئی ایسا بیمار ہو تو وصیّت کر دیا کرے اپنے مال کے متعلق۔وصیّت کِس کے لئے ہو۔: اپنے ماں باپ کے واسطے۔کیا وصیّت ہو؟ ایکؔ تو یہ معنے ہیں کہ اپنے ماں باپ سے کہہ جائے میرے بعد یُوں اِنتظام کرنا۔دومؔ یہ کہ اپنے ماں باپ کے حق میں وصیّت کر جائے اس صورت میں جبکہ وہ شرعی قانون کے لحاظ سے ترکہ کے وارث نہ بن سکیں مثلاً وہ کافر ہوں ، غلام ہوں یا اپنے بیٹے کے قاتل ہوں۔پس اِن صورتوں میں وارث اگر ان کے لئے وصیّت کر جائے تو جائز ہے یا یہ مطلب کہ ان کو اپنے کاموں کا وصی کر دے۔یہ سب احکام بھی جہاد کی تمہید میں ہیں۔کیونکہ جنگ کا زمانہ تھا اِس لئے صحابہ کو فرمایا اپنی وصیّتیں کر چھوڑو۔اور اگرحَضَرَ کے معنے