حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 298 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 298

: لکھا گیا یہ قانون۔قِصَاصٌ:بدلہ جو وارثانِ مقتول قاتل سے لیتے ہیں۔اِس میں جہاد کا ایماء ہے کہ جب قصاص ضروری ہے تو پھر تم بھی اپنے مقتولوں کا بدلہ لو جو کفّار وقتاً فوقتاً کرتے رہتے ہیں۔حُرٌّ:آزاد۔اصیل۔باقی رہی یہ بات کہ حُرّ عبد (مرد یا عورت ) کے مقابلہ میں بھی مارا جائے یا نہیں ؟ اِس کا جواب سورۃ مائدۃ آیت ۴۶ میں موجود ہے اِنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ۔:قتل کا بدلہ یا دیت کا کچھ ہی معاف کر دیا جائے۔:وارثانِ مقتول کو تابع ہونا چاہیئے۔قاتل کے ساتھ قاعدہ، ،حکومت و عرف کے مطابق۔اور چونکہ بدلہ قتل نہیں لیا گیا اِس لئے خوبی سے ادا کریں۔وَ رَحْمَۃٌ:عرب میں ایک کے بدلے سینکڑوں قتل کر دیئے جاتے تھے۔بڑوں کا جو غلام ہوتا اگر وہ قتل ہو جاتا تو اس کے بدلے میں کئی حُرّمارے جاتے اِس لئے  کا قانون مقرر کر کے فرماتا ہے یہ خاص تخفیف ہے تمہارے ربّ سے اور اس کی رحمت۔اس سے پہلے ایک معمولی بات پر جنگیں ہو کر ہزاروں کے کُشت و خون کی نوبت پہنچ جاتی مگر اَب یہ بات نہیں بلکہ صرف ایک کے بدلے میں ایک کو قتل کرنے کا حکم ہے۔:اگر پھر وہی اپنا رواج چلاؤ گے تو تمہیں ایک دُکھ دینے والا عذاب پہنچے گا۔خدا کی طرف سے یا حکّام کی طرف سے جو کہ وہ مناسب موقعہ و حال تجویز کریں گے۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان یکم اپریل ۱۹۰۹ء)   اِس قصاص میں تمہاری زندگی ہے وہ اِس طرح کہ اَب ایسا نہ ہو گاکہ ایک کے بدلے میں ہزاروں کے کُشت و خون کی نوبت پہنچے بلکہ حکومت قصاص لے گی اور قاتل و وارثانِ مقتول بچ کر کام کریں گے اِس طرح آبادی کی تعداد بڑھ جائے گی۔