حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 28
کا مصنّف و متکلّم فاعل ہے اور اس کا نست کارن۔مصنّف کے علوم وغیرہ اور پاوان کارن ہے اور اس کے آلات و اسباب مثلاً قلم و سیاہی کاغذ وغیرہ سادہارن کارن ہیں۔اس کا اصل مقصود یعنی نافہموں کے سامنے صداقتوں کا اظہار اس کا پریوجن ہے۔(۱) الٰہی اقوال یا اچھے لوگوں کی بات سے سَند لینا سمعی دلیل ہے اور اس کو سنسکرت میں شَبد کہتے ہیں (۲) تشبیہ کو ایمان کہتے ہیں۔عِلّت سے معلول کو سمجھنا لمِؔ کہلاتا ہے اور معلول سے علّت کو سمجھنا اِنّ ہے (۳) اور استقراء سے پتہ لگانا تمثیل ہے اور ان سب کو انومان کہتے ہیں۔(۴) مشاہدات سے استدلال سنسکرت میں پرتیکش ہے حو اِس ظاہرہ سے استدلال ہو یا حواسِ باطنہ سے۔دلائل میں پہلی دلیل شبد ہے اِس سے ہم نے استدلال نقلی دلائل میں کیا ہے۔دوسری دلیل ایمان یا تشبیہ ہے۔اِس دلیل سے ہم نے یوں کام لیا ہے کہ جس طرح مقطّعات تمہارے مقدّس وید میں ہیں اسی طرح ہماری مقدّس کتاب میں ہیں۔جس طرح وہاں اسمائِ الہٰیّہ لئے گئے ہیں اسی طرح یہاں لئے گئے ہیں فرق اتنا ہے کہ اسلامیوں کے پاس ایک قاعدہ ہے اور تمہارے یہاں دھینگا دھانگی ہے کہ آؔ سے یہ لواور اُسےؔ یہ اور م ؔ سے یہ مراد لو۔تیسری دلیل انومان سے ہم نے یوں کام لیا ہے کہ ہم نے استقراء کیا ہے کہ ہندو، سناتن، آریہ، یورپ، امریکہ کے لوگ مقطّعات کو اجزاکلمات تجویزکرتے ہیں تو ہم نے اسی استقراء سے مقطّعات قرآنیہ کو اجزاء کلماتِ طیّبات لیا ہے۔اب چوتھی دلیل پرتیکش یُوں ہے کہ کلمہ طیّبہ ۔۔۔ چار جملے ہیں۔چوتھا جملہ مطلب وغایت کو ادا کرتا ہے اور تیسرا جملہ سروپ کو۔دوسرا جملہ مادہ کتاب کہ آپ کو تو ان مشاہداتِ ثلاثہ سے یہ پتہ لگا کہ پہلا جملہ اِس کتاب کے متکلّم و مصنّف کا پتہ دیتا ہے۔(نورالدین صفحہ ۲۴۳ تا ۲۴۸) حروفِ مقطّعات کے معنے یہ حروف اسمائِ الٰہی کے ٹکڑے ہیں اور ان کے ساتھ اُن اسمائِ الہٰی کی طرف اشارہ کیا جا تا ہے کہ جن کی یہ جُزو ہوتے ہیں اور یہ دعوٰی ہم از خود نہیں کرتے بلکہ حضرت علیؓ اور ابِن مسعود ؓ اور ابن عبّاسؓ اور بہت سے صحابہ رضوان اﷲ علیہم اجمعین سے اور خیرالتابعین فی التفسیر مجاہد اور سعید بن جبیر اور قتادہ اور عکرمہ اور حسن اور ربیع بن انس اور سعدی اور شعبی اور اخفش اور تابعین