حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 287
ہو۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان یکم اپریل ۱۹۰۹ء) : سب چیزیں جو قوٰی فطری یا دین یا اخلاق کی مُہلک ہوں حرام ہیں۔(تشحیذالاذہان جِلد ۸ نمبر ۹ صفحہ۴۴۱) : اِس سُورۂ شریفہ میں اﷲ تعالیٰ نے قِسم قِسم کی کامیابیوں اور فتحمندیوں کے اصول بتلائے ہیں۔میرے اپنے اِعتقاد کے مطابق یہ تمام سورۃ جہاد کی ترغیب کیلئے ہے اور اس میں جا بجا مجاہدین کو بتایا ہے کہ وہ کِس طرح مظفّر و منصور ہو سکتے ہیں۔پارہ اوّل میں مُفْلِحُوْنَ کے معنے مظفّر و منصور کے ہیں۔فتح کا تاج بھلا جہاد کے سوا کسی کے سر پر رکھا جا سکتا ہے۔پھر اِس کے بالمقابل اِنَّ الَّذِیْنَ کا ذکر ہے جس کے بعد عذابِ عظیم آیا ہے۔گویا دو گروہ بتا دیئے ہیں جن میں مقابلہ ہو گا۔اﷲ تعالیٰ چاہے گا تو مَیں کسی وسرے مقام پر اِس کی تشریح کروں گا یہاں صرف اِتنا بتا دیتا ہوں کہ ایک جگہ فرمایا وَ (البقرۃ:۱۵۵) پھر صاف بتلا دیا (البقرۃ:۱۵۵) پھر فرمایا (البقرۃ:۱۵۶)یہ سب چیزیں ایسی ہیں جن کی ضرورت جہاد میں ہے۔پھر جہاد میں ضروری ہے کہ اﷲ پر پورا ایمان ہو اور یہ موقوف ہے توحید پر اور توحید کامل نہیں ہوتی جب تک شرک سے نفرت نہ ہو اِسی واسطے (البقرۃ:۱۶۶) میں شِرک سے منع فرمایا اور بتلایا کہ مومن کو چاہیئے اکلِ حلال سے غازی بنے۔پھر اسی پر بَس نہیں کہ حلال کھانے کا عادی بنے بلکہ ترک حرام بھی کرے۔پھر اس ترک حرام میں سے ایک اعلیٰ حرام خوری کا ذکر کیا ہے۔کل کے درس میں اصولی محرمات کا ذکر تھا استنباطی طاقت جب پیدا ہوتی ہے جب بطور مثال