حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 272 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 272

مصائب شدائد پر صبر کرنے والوں کو اجر ملتے ہیں چنانچہ حدیث شریف میں آیا کہ ہر مصیبت پر  پڑھ کر یہ دعا مانگو اَللّٰھُمَّ اَجْرِنِیْ فِیْ مُصِیْبَتِیْ وَاخْلُفْنِیْ خَیْرًا مِّنْھَا(المسلم۔کتاب الجنائز باب مایقال عندالمصیبۃ)اور قُرآن شریف میں مشکلات اور مصائب پر صبر کرنے والوں کے واسطے تین طرح کے اَجر کا وعدہ ہے۔  یعنی مصائب پر صبر کرنے والوں اور اِنّا لِلّٰہکہنے والوں کو تین طرح کے انعامات ملتے ہیں: ۱۔صلوات ہوتے ہیں ان پر اﷲ کے۔۲۔رحمت ہوتی ہے ان پر اﷲ کی۔۳۔اور آخر کار ہدایت یافتہ ہو کر ان کا خاتمہ بالخیر ہو جاتا ہے۔اَب غور کرو جن مصائب کے وقت صبر کرنے والے انسان کو ان انعامات کا تصّور آ جاوے جو اس کو اﷲ کی طرف سے عطا ہونے کا وعدہ ہے تو بھلا پھر وہ مصیبت ، مصیبت رہ سکتی ہے اور غم غم رہتا ہے؟ ہرگز نہیں! پس کیسا پاک کلمہ ہے الحمد لِلّٰہ اور کیسی پاک تعلیم ہے وہ جو مسلمانوں کو سکھائی گئی ہے۔یہ نہایت ہی لطیف نکتۂ معرفت ہے اور دل کو مُوہ لینے والی بات۔یہی وجہ ہے کہ قرآن شڑیف اِسی آیت سے شروع ہؤا اور رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے تمام خطبات کا ابتدا بھی اِسی سے ہؤا ہے۔(الحکم ۱۰؍مارچ ۱۹۰۸ء صفحہ۲،۳) صاحبزادہ میاں مبارک احمد کی وفات اور پھر خود حضرت اقدس علیہ الف الف صلوٰۃ والسّلام کا کُوچ کرنا واقعی اپنے اندر ضرور ابتلا کا رنگ رکھتے ہیں مگر اِس سے خدا ہم کو انعام دینا چاہتا ہے۔انعامِ الہٰی پانے کے واسطے ضروری ہوتا ہے کہ کچھ خوف بھی ہو۔خوف کِس کا؟ خوف اﷲ کا، خوف دشمن کا ، خوف بعض نادان ضعیف الایمان لوگوں کے ارتداد کا۔مگر وہ بہت تھوڑا ہو گا۔یہ ایک پیشگوئی ہے اور اﷲ تعالیٰ خود فرماتا ہے  ۔خدا فرماتا ہے کہ میری راہ میں کچھ خوف آوے گا۔کچھ جُوع ہو گی (جُوع یا تو روزہ رکھنے سے ہوتی ہے۔مطلب یہ ہے کہ کچھ روزے رکھو) اور پارسا رنگ میں جُوع اپنے اُوپر اختیار کرو کہ صدقہ خیرات اس قدر نکالو کہ بعض اَوقات خود تم کو فاقہ تک نوبت پہنچ جاوے۔اپنے مالوں کو خدا کی راہ میں اِتنا خرچ کرو کہ وہ کم ہو جاویں اور جانوں کو بھی اسی کی راہ میں خرچ کرو۔عَلٰی ھٰذَا