حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 271 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 271

واپس لے لئے تو پھر جزع فزع کا کیا مقام ہے؟ : یعنی اگر خدا باوجود اس کا مالک ، اس کا بادشاہ اور اس کا خالق و رَبّ ہونے کے کوئی چیز لے لیتا ہے تو غم کی بات نہیں کیونکہ ہم نے بھی اُسی کے حضور جانا ہے اور وہاں جا کر اس کا نِعم البدل پانا ہے بلکہ اسی دُنیا میں بھی۔میرے نو لڑکے لڑکیاں ( عبداﷲ ، اُسامہ، حفیظ الرّحمن ، محمد احمد، عبدالقیوم، امتہ اﷲ، رابعہ، عائشہ ، امامہ) مَر چکے ہیں ہر ایک کے مَرنے پر مَیں نے یہی خیال کیا ہے کہ آخر ایک دِن ہم نے جُدا ہونا تھا یا مَیں نے مَرنا تھا یا ان میں سے کسی نے۔بہر حال خدا کے پاس جا کر پھر جمع ہونا تھا۔پھر اﷲ تعالیٰ نے مجھے اَور بہت اولاد دے دی۔وَالْحَمْدُلِلّٰہِ۔ : صَلوٰۃ کہتے ہیں کہ بدی کا اثر اور سزا جس بات پر مرتّب نہ ہو۔ان خاصہ عنایات کا نام صَلوٰۃ ہوتا ہے۔: یعنی علاوہ اِن خاص عنایتوں کے عام رحمتوں سے بھی حصّہ ملتا ہے ( یہ تو ایک دعوٰی تھا اب اس کا ثبوت اگلی آیت میں بیان فرمایا ہے)۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۲۵؍مارچ ۱۹۰۹ء) : جنگ میں بیٹے بھی مرتے ہیں کھِیتی کی نگرانی نہیں ہو سکتی۔(تشحیذالاذہان جلد ۸ نمبر۹ صفحہ ۴۴۰) اور ہم تو کو انعام دیں گے کسی قدر خوف کے بدلے اور بھُوک اور مالوں اور جانوں اور پھَلوں کے کم کرنے کے بدلے اور خوشخبری دو صبر کرنے والوں کو کہ جنہیں کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو کہتے ہیں ہم تو اﷲ کے ہیں اور اُسی کی طرف رجوع کرنے والے ہیں۔(دیباچہ نور الدین صفحہ۲۰) جناب ہاجرہ علیہا السّلام کو ایک بڑا ابتلاپیش آیا جس کا اشارہ اِن باتوں سے ہؤا۔(البقرۃ:۱۵۶) اور انعام دیں گے ہم تم کو بدلہ میں تھوڑے سے خوف اور بھُوک اور مالوںکے اور جانوں کے اور پھلوں کے نقصان کے۔اور ان پانچوں پر اُمُّنَا ہاجرہؑ نے  کہا۔ہم سب اﷲ کے ہیں اور اُسی کی طرف جانا ہے۔پس اپنے دو اقوال سے صبر و استقلال اور ایمان کا اظہار فرمایا۔اِس واسطے اﷲ تعالیٰ کریم و رحیم نے اس کی اولاد کو اٰمَنَھُمْ مِّنْ خَوْفِامن دیا ان کو عظیم الشّان ڈر سے۔(قریش:۵)کھانا دیا ان کو بھُوک سے اور بلدہ کو بلدۂ مبارک فرما کر کثرتِ اموال و انفس و ثمرات اور الصبرکا نِعم الاجرصلوات و رحمت عطا فرما کر اس کی اولا د کو ہدایت یافتہ فرمایا۔(نورالدین صفحہ ۲۵۰،۲۵۱)