حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 270
: اِس کے معنے ہیں ضرور ضرور ہمیں اپنی ذات کی قَسم ہے کہ ہم تمہیں انعام دینا چاہتے ہیں مگر کچھ تھوڑا خوف دے کر۔: صوفی کہتے ہیں الہٰی خوف۔فقہاء کے نزدیک یہ معنے ہیں کہ اکل حرام سے خوف۔اور شافعی کہتے ہیں جہاد کی تکالیف کا خوف۔: اِس کی بھی تین صورتیں ہیں (۱) روزہ (۲) مالِ حرام ملتا ہے تو نہ لے۔اور اگر اس نہ لینے سے فاقہ آتا ہو تو اس فاقہ کو مقدّم کر کے اسے برداشت کرے(۳) بعض وقت اپنے پیٹ کو خالی رکھ کر دینی امورمیں امداد دے۔:مالوں کی کمی کی بھی کئی صورتیں ہیں(۱) اﷲ کی راہ میں خرچ کر دیا۔(۲) رشوت ، حرامزدگی، باطل سے مال ملتا ہے اُسے نہ لیا۔غرض ہوتا ہے زکوٰۃ دینے سے۔حرام سے بچنے سے یا کسی الہٰی حکمت کے ماتحت کسی چیز کے قبضہ سے نکل جانے سے۔: جانوں کو خدا کی راہ میں خرچ کرنا۔:پھلوں کی زکوٰۃ۔اور اس سے مراد اولاد بھی ہے۔: ایک شخص کا کوئی بہت پیارا مَر گیا۔وہ بہت مضطرب تھا۔ایک دوست نے اسے آکر ایک کہانی سُنائی کہ ایک شخص نے کسی کے پاس جواہرات امانت رکھے تھوڑے دن بعد جب وہ واپس لینے کو آیا تو اس نے رونا چیخنا چلاّنا شروع کر دیا اس پر وہ شخص بولا جس کا بہت پیارا مر گیا تھا کہ پھر تو وہ بڑا ہی بیوقوف تھا جو امانت کو واپس دیتے ہوئے روتا ہے۔جب اس کے مُنہ سے یہ بات نکلی تو اس کے دوست نے کہا آپ اپنی طرف نگاہ کریں۔لڑکے بھی آپ کے خدا کی امانت تھے اگر خدا نے