حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 269
نہی الہٰی ہے۔ہم وجوہات نہیں جانتے کہ ایسا کیوں حکم دیا گیا بلکہ اِس جگہ ایک اَور نکتہ بھی قابلِ یاد ہے اور وہ یہ ہے کہ اَور جگہ جہاں شہداء کا ذکر کیا ہے وہاں اَحْیَآئٌ عِنْدَرَبِّھِمْ کا لفظ چھوڑ دیا ہے۔دیکھو انسان جب مرتا ہے تو اس کے اجزاء متفرق ہو جاتے ہیں مگر یہ خدا کا خاص فضل ہے اس نے حضرت مرزا صاحب کی جماعت کو جو بمنزلہ آپ کے اعضاء کے اور اجزاء کے تھی اس تفرقہ سے بجا لیا اور اتفاق اور اتحا د اور وحدت کے اعلیٰ مقام پر کھڑا کر کے آپ کی زندگی اور حیاتِ ابدی کا پہلا زندہ ثبوت دُنیا میں ظاہر کر دیا۔صرف تکمریزی ہی نہیں کی بلکہ دشمن کے مونہہ پر خاک ڈل کر وحدت کو قائم کر دیا۔دیکھو یہ رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کا قول ہے اَلْمَبْطُوْنُ شَھِیْدٌاور دوسری طرف قرآن شریف میں اﷲ تعالیٰ نے ہمیں جھنجھوڑ کر کہا ہے کہ مُردہ مت کہو بلکہ یہ کہو کہ اَحْیَآئٌیہ بات ہماری سمجھ میں نہیں آتی۔ہم نے خود دم نکلتے دیکھا،غسل دیا، کفن دیا اور اپنے ہاتھوں سے گاڑ دیا اور خدا کے سپرد کر دیا پھر یہ کیسے ہو کہ مَرے نہیں بلکہ زندہ ہیں مگر دیکھو اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہارا شعور غلطی کرتا ہے۔مَیں یہ مسئلہ اپنے بھائیوں کے سامنے پیش کرتا ہوں کہ وہ اپنے اندرغیرت پَیدا کریں اور سچّے جوش جو حق اور راستی کے قبول کرنے سے ان میں موجود ہو گئے ہیں ان کا اظہار کریں اور ہمیںدکھادیں کہ واقعی ان میں ایک غیرت اور حمیّت ہے اور ان مخالفوں سے پوچھیں کہ دشمن جو کہتا ہے کہ ہیضہ سے مَرے ہیں۔اچھا مان لیا کہ دشمن سچ کہتا ہے پھر ہیضہ سے مرنا شہادت نہیں ہے؟ پیغامِ صلح جنگ کو ثابت کرتا ہے اور دشمن بھی اِس بات کو تسلیم کرے گا کہ واقعی آپ کی وفات عین جہاد فی سبیل اﷲ میں واقع ہوئی ہے۔دشمن نے خود بھی ہر طرح سے مورچہ بندی کی ہوئی تھی اور اپنے پورے ہتھیاروں سے اپنی حفاظت کے سامان کرنے کی فکر میں لگ رہا تھا۔اراکین اور امراء کو دعوت دے کر آپ نے اپنے تمام دعاوی پیش کئے تھے یا کہ نہیں۔پس ان سب لوازم کے ہوتے ہوئے بھی دشمن آپ کے احیاء کے قائل نہیں تو جانور ہیں۔(الحکم ۱۴؍جون ۱۹۰۸ء صفحہ۷،۸)