حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 268
کیا ہے اور میرے ہاتھ پر بَیعت کی ہے تم کو بڑے زور سے اور تاکیدی حکم سے کہتا ہوں کہ سر سے پاؤں تک ہتھیاروں میں محفوظ ہو جاؤ اور ایسے بن جاؤ کہ کوئی موقع دشمن کے وار کے واسطے باقی نہ رہنے دو۔بائیں طرف تھوکنا، لاحَول پڑھنا، استغفار، درُود اور الحمد شریف کا کثرت سے وظیفہ کرنا۔ان ہتھیاروں سے مسلّح ہو کر اِن آیات کا مضمون سُن لو۔تم نے سُنا ہو گا اور مخالفوں نے بھی محض اﷲ کے فضل سے اِس بات کی گواہی دی ہے اور تم میں سے بعض نے اپنی آنکھ سے بھی دیکھا ہو گا کہ حدیث شریف میں آیا اَلْمَبْطُوْنُ شَھِیْدٌبخاری۔کتاب الاذان باب فضلِ التھجیرالی الظُّھرِوہ جو دستوں کی مرض سے وفات پاوے وہ شہید ہوتا ہے۔مبطون کہتے ہیں جس کا پیٹ چلتا ہو یعنی دست جاری ہو جاویں۔اَب جائے غور ہے کہ آپ ( حضرت مسیح موعود علیہ الصّلوٰۃ و السّلام) کی وفات اِسی مرض دستوں ہی سے واقع ہوئی ہے۔اَب خواہ اسی پُرانے مرض کی وجہ سے جو مدّت سے اﷲ تعالیٰ کی طرف سے بطور ایک نشان کے آپ کے شاملِ حال تھا یا بقول دشمن وہ دست ہیضہ کے تھے۔بہر حال جو کچھ بھی ہو یہ امر قطعی اور یقینی ہے کہ آپ کی وفات بصورت مبطون ہونے کے واقع ہوئی ہے۔پس آپ بموجب حدیث صحیح کہ مبطون( جو مرضِ دست سے خواہ کسی بھی رنگ میں ہو وفات پانے والا شہید ہوتا ہے پس اِس طرح سے خود دشمنوں کے مُنہ سے بھی آپ کی شہادت کا اقرار خدا نے کرا دیا یُقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اﷲِسے مُراد لڑائی اور جنگ ہوتی ہے۔لڑائی اور جنگ ہی میں صُلح ہوتی ہے۔خدا نے آپ کو پیغامِ صلح دینے کے بعد اُٹھایا۔اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ اَب جنگ کا خاتمہ ہونے کو ہے کیونکہ اَب صلح کا پیغام ڈالا گیا ہے مگر خدا کی حکمت اِس میں یہی تھی کہ آپ کو حالتِ جنگ میں ہی بُلالے تا آپ کا اَجر جہاد فی سبیل اﷲ کا جاری اور آپ کو رُتبہ شہادت عطا کیا جاوے۔یہی وجہ ہے کہ عملی طور پر اس صلح کی کاروائی کے انجام پذیر ہونے سے پہلے جبکہ ابھی زمانہ زمانۂ جنگ ہی کہلاتا تھا اُٹھا لیا…اب اﷲ تعالیٰ کہتا ہے ۔ہم سُناتے ہیں ذرا غور سے توجّہ سے اور خبردار ہو کر سُن لو۔اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو کیا کہتے ہو؟ یہی کہ ان لوگوں کے حق میں یہ کبھی بھی مت کہیو جو خدا کی راہ میں جان خرچ کر گئے ہیں اور خدا کی راہ میں شہید ہوئے ہیں۔کیا مت کہیو؟ کہ وہ مر گئے ہیں۔وہ مرے نہیں بلکہ وہ زندہ ہیں۔آپ نے خدا کی راہ میں تبلیغِ احکامِ الہٰیّہ میں، خدا کی راہ میں حالتِ سفر میں وفات پائی ہے۔پس یہ خدا کا حکم ہے اور کوئی بھی اِس بات کا مجاز نہیں کہ آپ کو مُردہ کہے آپ مُردہ نہیں۔آپ ہلاک شدہ نہیںبَلْ اَحْیَآئٌ بلکہ زندہ ہیں۔یاد رکھو کہ یہ