حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 267
ہؤا کرتی ہے کیونکہ جب ایک دولتمند وکیل اور حاکم یا کوئی اَور ذی وجاہت کسی کو یہ کہہ دے کہ ہم تیرے ساتھ ہیں تو اُسے کِس قدر خوشی حاصل ہوتی ہے اور اس کی ڈھارس بندھتی ہے تو پھر جب اَحکم الحاکمین بتلا دے کہ ہم صابروں کے ساتھ ہیں تو کِس قدر خوشی ہونی چاہیئے۔اس سے آگے اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم میں سے بہت سے قتل توہوں گے مگر وَلَاتَقُوْلُوْاتم یہ نہ سمجھنا کہ جو اﷲ تعالیٰ کی راہ میں مریں گے وہ مُردہ ہو گئے بلکہ وہ زندہ ہیں لیکن تم کو ان کی زندگی کا شعور نہیں ہے۔اﷲ کی راہ میں جو مارا جاوے اسے احیاء کہتے ہیں اور تین طرح سے وہ زندہ ہوتے ہیں جن کو ایک جاہل بھی سمجھ سکتا ہے اور متوسط درجہ کے آدمی بھی اور ایک مومن بھی سمجھ سکتا ہے۔گویا ان کی حیات قائم رہتی ہے۔اسے تو ایک مومن سمجھ سکتا ہے۔دوسری بات کہ متوسط درجہ کا عرب سمجھ سکتا ہے کہ اہلِ عرب کا محاورہ ہے کہ جس کا بدلہ لیا جاوے اُسے وہ مُردہ نہیں کہتے بلکہ زندہ کہتے ہیں۔شہید کے بارے میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو تم میں سے مَرے گا اس کا بدلہ جاوے گا۔تیسری بات کہ ایک جاہل بھی سمجھ سکتا ہے یہ ہے کہ جب میدان ہاتھ آوے اور فتح ہو جاوے تو پھر مُردوں اور مقتولوں کو مُردہ اور مقتول نہیں سمجھتے اور نہ ان کا رنج و غم ہوتا ہے میرا اپنا اعتقاد ہے کہ شہید کو ایک چیونٹی کے برابر بھی دَرد محسوس نہیں ہوتا اور مَیں نے اِس کی نظیریں خود دیکھی ہوئی ہیں۔(البدر ۲۰؍ مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ ۶۹) آج یہ جو دو آیت ( سورہ ٔ بقرہ کی آیات ۱۵۵ تا ۱۵۸ ) مَیں نے تمہارے سامنے پڑھی ہیں یہ میرے کسی خاص ارادے ، غور و فکِر کا نتیجہ نہیں اور نہ مَیں نے کوئی تیاری قبل از وقت اِس مضمون اور اِن آیات کے متعلق آج جمعہ کے خطبہ میں سُنانے کی کی تھی۔وعظ کا بیشک مَیں عادی ہوں مگر یہ آیتیں محض اﷲ تعالیٰ کی ہی طرف سے دِل میں ڈالی گئیں۔اِس کا مطلب سمجھنے کے واسطے مَیں پہلے تمہیں تاکید کرتا ہوں۔توجّہ سے سُنو اور یاد رکھو جب تمہیں کوئی وسوسہ پیدا ہو تو پہلے دائیں طرف تھوک دو پھر لا حَول پڑھو اور ان باتوں کو کثرت سے استعمال کرو۔دعاکرو۔پھر تاکید سے کہتا ہوں کہ اَب تک تمہارا کام یہ ہے کہ ہتھیار بند ہو جاؤ، کمریں کَس لو اور مضبوط ہو جاؤ۔وہ ہتھیار کیا ہیں ؟ یہی کہ دعائیں کرو۔استغفار، لاحَول ، درُود ، اور الحمد شریف کا ورد کثرت سے کرو۔اِن ہتھیاروں کو اپنے قبضہ میں لو اور ان کو کثرت سے استعمال کرو۔مَیں ایک تجربہ کار انسان ہونے کیحیثیت سے اور پھر اِس حیثیّت سے کہ تم نے مجھ سے معاہدہ