حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 266 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 266

بُت پرست بھی دشمن ہو گئے۔پھر پڑھے لکھے یہودی بھی آمادۂ مخالفت ہوئے۔ان کی چالبازیاں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی ایذا کے لئے بہت باریک تھیں جن کا اشارہ اوّل ہاروت ماروت کے قصّہ میں ہو چکا ہے پھر ان کے علاوہ نبو نضیر اور بنو قریظہ دشمن اور بنو قینقاع دشمن۔اور اِن سب کے علاوہ عیسائیوں کی طرّار قوم دشمن پھر ان کے بھی علاوہ دوسری اقوامِ عرب تھیں جن کی نظروں میں آپ کی وجودِ مبارک کھٹکتا تھا اور سب سے مشکل یہ تھی کہ ان قوموں کی باریک اندرونی چالوں سے کیسے آگاہی ہو۔یہ سب ایک دوسرے کو اور دوسری قوموں کو اُکساتے تھے۔اِس لئے مدنی آیات میں آیا ہے (المائدۃ:۶۸)کیونکہ سخت مشکلات کا سامنا تھا ان کے سامنے ملّتِ ابراہیمؑ کو پیش کیا گیا ہے جیسے کہ پیچھے ذکر ہؤا اور اسی سخت مشکل کے وقت دوا تجویز کی گئی جو کہ بتلاتی ہے کہ اس کا کیا فائدہ ہؤا اور کِن کِن نے اس کا تجربہ کیا اور انہوں نے کیا برکات اور فوائد اِس دوا سے حاصل کئے اور کیا نتیجہ نکلا۔وہ دو علاج ہیں جن کا اِس آیت میں ذکر ہے  وَالصَّلٰوۃ۔یعنی اے ایمان والو! تم پر بڑی مشکلات کا وقت ہے تم میری مدد اور عون حاصل کرو اس کا طریق ایک صبر اور ایک صلوٰۃ ہے۔صبر کے دو معنے ہیں ایک تو عام طور پر روزہ رکھنا اور واقعہ میں روزہ اور نماز دونوں جنابِ الہٰی کی طرف توجّہ کا بڑا ذریعہ ہیں۔دوسرے معنے صبر کے نیکیوں پر مستقل رہنا اور بدیوں کا اِرتکاب نہ کرنا۔مشکلات کے وقت اِنسان اﷲ کی فرمانبرداری اور اطاعت کو چھوڑ بیٹھتا ہے۔مثلاً بیماری ہو یا ہتکِ عزّت ہو۔کوئی مقدمہ ہو یا تجارت کا مقابلہ ہو یا کسی کام میں اُسے خسارہ ہؤا ہو تو ایسی تمام مشکلات کے وقت ایک ناعاقبت اندیش انسان اﷲ تعالیٰ کی نارضامندی کو جائز کر لیتا ہے مگر اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایسے وقت تم یہ نہ کرنا کہ اﷲ تعالیٰ کی نافرمانی کرو اور اطاعتِ الہٰی میں بہانہ تلاش کر کے کمزوری کرو۔انسان اگر خدا کی مدد لینا چاہتاہے تو اس کا یہی طریق ہے کہ مطلق عبادت کو ترک نہ کرے اور نہ کِسی نافرمانی کا اِرتکاب کرے۔روزہ کا اصل میں یہی مطلب ہوتا ہے کہ بقائے نوعی اور بقائے شخصی کے لئے جو اُسے ضروریا ت ہیں اُسے وہ ترک کئے ہوتا ہے اور باوجود ضرورت کے ترک کرتا ہے تو پھر غیر ضروری باتوں کو کب اختیار کرتا ہے۔تو یاد رکھو کہ اﷲ تعالیٰ کی مدد و طاقت پر مستقل رہنے اور بدی سے بچنے پر آیا کرتی ہے۔صبر کے بعد پھر دعا ( صلوٰۃ ) کرے تو اﷲ تعالیٰ فرماتا ہےصابروں کا ہم ساتھ دیتے ہیں  کے لفظ سے مجھے بہت خوشی