حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 262 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 262

اپنی عبادت میں خدا تعالیٰ کے فرمان کی پابندی کر کے پورے موحِّد اور فرمانبردار ہونے کا ثبوت دیتا ہے کہ میری اپنی کوئی خواہش نہیں ( حتّٰی کہ تیرے حضور کھڑا ہونے میں بھی) پھر یہ کہ مسلمان اِس لئے اِس طرف مُنہ کرتے ہیں کہ حکم مکّہ سے صادر ہؤا اِس لئے اسی طرف توجّہ کرتے ہیں۔پھر یہ کہ یک جہتی بڑی اچھی چیز ہے۔کوئی کِسی طرف کوئی کِسی طرف مُنہ کر لیتا تو یہ بات اچھی نہ ہوتی بلکہ یہ امر افتراق کا موجب ہو جاتا۔عبادت کے لئے ایک نہ ایک جہت ضرور اختیار کرنی پڑتی ہے جنہوں نے خدا تعالیٰ کے حکم کو چھوڑا ان کو پتھّروں اور درختوں کی پرستش کرنی پڑی ہے۔ہندوؤں میں ایک فرقہ ہے جو لِنگ پُوجا کرتے ہیں دوسرا گروہ حنبیری کی پُوجا کرتا ہے۔ایک ہندو رئیس نے ایک مندر بنایا اور اس میں تین لاکھ لِنگ اور تین لاکھ جینری کی مورتیں بنا کر رکھیں۔کیسا تعجّب ہے۔: جہاں کہیں تم ہو گے اسی طرف مُنہ کر لو گے تو پھر گویا تم سب کو اکٹھا کیا۔شاہ عبدالعزیز صاحب نے جو ہمارے شیخ المشائخ ہیں ایک دلچسپ نکتہ لکھا ہے کہ خداوندِ کریم نے مکّہ معظمہ ہمارا جائے توجّہ بنایا۔کعبہ میں چار مصلّٰی ہیں۔حنفی لوگ کہتے ہیں ( جن کا مصلّٰی شمالی جانب ہے ) کہ ہم اسی طرف اور اسی طرز سے نماز پڑھتے ہیں جس طرف سے رسول کریم صلّی اﷲ علیہ وسلّم نے پڑھی یعنی ہماری پیٹھ بھی اسی طرف رہتی ہے جدھر رسولِ کریم صلّی اﷲ علیہ وسلّم نے کی۔شافعی کہتے ہیں کہ  (البقرۃ:۱۲۶) کی تعمیل ہم ہی کر رہے ہیں کیونکہ ہمارا مصلّی اس کے قریب ہے۔حنبلی کہتے ہیں ہمارا مصلّٰی سنگِ اَسود کے قریب ہے۔مالکی اِن سب کی تردید کر تے ہیں مگر تاہم ان سب کی توجّہ ایک ہی طرف ہے مَا اﷲُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ میںغالبًا انہی چار مصلّوں کی نسبت پیشگوئی تھی۔اَ:بعض ملکوں میں جب کسی غیر ملک کے لفظ جاتے ہیں تو ان کے معنے بھی بدل جاتے ہیں چنانچہ یہ حرام کا لفظ ہے یہ ہمارے مُلک میں بُرے معنوں میں استعمال ہوتا ہے حالانکہ عربی زبان میں حرام بڑی عزّت کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ایک کنچنی نے مسجد بنوائی ایک ظریف نے اس کی تاریخ نکالی۔بَیت الحرام۔یہ بہت بُری بات ہے کہ اچھے لفظوں کو بُرے معنے میں لایا جاوے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۵؍مارچ ۱۹۰۹ء) :کِسی نہ کِسی امر کی طرف متوجّہ رہتا ہے۔:پس تم نیکیوں کی توجّہ میں پیش دستی کرو۔:مسلمانوں نے یہ کیا کہ کعبہ تو فتح کر لیا مگر پھر چار مصلّوں پر تقسیم کر کے