حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 261 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 261

امتحانات کرتا رہا۔ذرا مُنصف عیسائی اِس پر پھر غور کریں۔(’’ ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات‘‘ صفحہ۵۲تا۵۵)     :توجّہ دو طرح کی ہے ایک یہ کہ کہ کسی طرف کو مُنہ کرنا۔دوسرےؔ یہ کہ کِسی کی پرستش کرنا۔ایک شخص نے اعتراض کیا کہ مسلمان سَنگ اَسود کو بوسہ دیتے ہیں۔مَیں نے کہا۔کیا تم کِسی کے بوسہ لینے کو پرستش سمجھتے ہو۔؟ پھر اُس نے کہا کہ تم قبلہ کی طرف مُنہ جو کرتے ہو۔مَیں نے کہا کہ تم میری طرف مُنہ کر کے کھڑے ہو۔کیا یہ پرستش ہے؟ پھر نماز کے تمام ارکان کی طرف خیال کرو کعبہ کی طرف مُنہ نہیں رہتا بلکہ رکوع میں زمین کی طرف ہوتا ہے۔دائیں بائیں بھی مُنہ ہوتا ہے۔پس کِسی کی طرف مُنہ کرنا اَور بات ہے اور پرستش کرنا اَور بات۔پھر یہ کہ مکّہ معظمہ کی نسبت نہ کوئی خواہش ہے نہ کوئی درخواست مکّہ معظمہ سے ہوتی ہے نہ کوئی اس سے اِلتجا کرتے ہیں ہاں حضرت نبی کریم صلّی اﷲ علیہ وسلّم کے روضئہ مقدّسہ کی طرف مُنہ کر کے نماز پڑھتے تو لوگ یہ خیال کر سکتے تھے کہ یہ نبی کی پرستش کرتے ہیں۔مگر جو لوگ مکّہ کے درمیان ہوتے ہیں ان کی اور خصوصًا حنفی مصلّی والوں کی تو مدینہ کی طرف پیٹھ ہوتی ہے۔اِنسان کی ایک رُوح ہوتی ہے رُوح کا تو آگا پیچھا دایاں بایاں کچھ نظر نہیں آ سکتا۔پس جو عبادت رُوح سے متعلق ہے اس کے ساتھ جہات کو کوئی تعلق نہیں مگر جسم میں چونکہ جہات ہیں اسلئے اس کے لئے عبادت میں بھی ایک جہت کی ضرورت تھی۔توجّہ اِلی القبلہ سے یہی مقصود ہے کہ مسلمان