حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 259 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 259

استقبال کا صیغہ ہو گا۔اب اِس تحقیق پر آیت کے یہ معنے ہوں گے۔یہ حق ہے تیرے رَبّ کی طرف سے ( چونکہ الہٰی الہام اور دلائل سے یہ حق ثابت ہو گیا) تو تُو کبھی شک کرنے والوں میں سے نہ ہو گا۔دوسراؔ جواب: ہم نے مانا لَا نفی نہیں نہی کا صیغہ ہے مگر ہم کہتے ہیں نہی دو قِسم کی ہوتی ہے ایک طلب ترک فعل۔دوم طلب عدم فعل۔سائل کا اعتراض اِس صورت میں ہے کہ یہاں نہی کو بغرض طلب ترک فعل لیا جاوے جس کا یہ مطلب ہے کہ مخاطب فعل شک کو ترک کر دیوے مگر ہم کہتے ہیں یہاں شک معدوم ہے اور نہی کا منشاء یہ ہے کہ جیسے شک معدوم ہے آئندہ بھی معدوم رہے۔تیسراؔ جواب: سائل۔یہاں آیت  میں ایسا کون سا امر ہے جس کے باعث ہم کو خواہ مخواہ ماننا پڑے گا کہ لَا کے مخاطب ہادیٔ اسلام ہیں۔صلی اﷲ علیہ وسلم۔ہم کہہ سکتے ہیں بدلائل مذکورہ سابقہ حضور علیہ السّلام کو اپنی رسالت پر یقین تھا اور قرآن کریم میں اختلاف نہیں۔اِس لئے ثابت ہؤا لَا کا مخاطب کوئی متردّد اور شک کرنے والا آدمی ہے نہ حضور علیہ السّلام۔چوتھاؔ جواب: ہم نے مانا اِس جُملہ لَا کے مخاطب ہمارے ہادی علیہ السّلام ہیں مگر عبری اور عربی کا طرزِ کلام باہم قریب قریب ہے اور کتبِ مقدّسہ کا غیر محرّف حصّہ اور قرآن کریم دونوں ایک ہی متکلّم کے کلمات ہیں اور دونوں ایک ہی مخرج سے نکلے ہیں اور دونوں کا محاورہ ہے کہ اعلیٰ مورث کو مخاطب کیا جاتا ہے اور مراد اس مورث کی قوم ہوتی ہے۔کسی کو خطاب کرتے ہیں اور کسی دوسرے کو مقصود بالخطاب رکھتے ہیں۔دیکھو یرمیاہ۔مانے کہ وہ دن بڑا ہے یہاں تک کہ اس کی مانند کوئی نہیں۔وہ یعقوبؑ کی مصیبت کا وقت ہے (یرمیاہ۳باب۷۔۱۰) اے میرے بندہ یعقوبؑ ہراساں مت ہو۔(یرمیاہ۴۶باب۲۸) خداوند کا یہودہ کے ساتھ بھی ایک جھگڑا ہے اور یعقوبؑ کو جیسے اس کی روشیں ہیں ویسی سزا دے گا ( ہوسیع ۱۲ باب ۲) دلاوری سے لبالب ہوں کہ یعقوبؑ کو اس کا گناہ اور اسرائیل کو اس کی خطا جتا دوں (میکاہ۳ باب ۸) یعقوبؑ کی رونق کو اسرائیل کی رونق کی مانند پھر بحال کریگا (نحمیاہ ۲ باب۲) اے کرازین ( یہ ایک گاؤں کا نام ہے جو افسوس اور ملامت کے قابل نہیں) تجھ پر افسوس ہے۔اے بیت صیداد ( یہ بھی گاؤں ہے) تجھ پر افسوس ( متی ۱۱ باب ۲۱) اے یروشلم۔اے یروشلم( یہ بیت المقدس ہے) جو نبیوں کو مار ڈالتی ہے ( متی ۲۳ باب ۳۷) اِن اِس طرح کے محاورات قرآن کریم سے سُنو!