حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 258
: ۱۲ باب پَیدائش۔یسعیاہ:۴۲،۴۵،۶۰۔بَیت اﷲ کے اعزاز کی بہت سی پیشگوئیاں ہیں جو مکّہ کے متعلق ہیں۔اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے تم خواہ کِس قدر آیات پیش کرو یہ مانیں گے نہیں۔تیری کیا مانیں جو ان میں اپنا اِتفاق نہیں۔(ضمیمہ اخبار بدرؔقادیان ۲۵؍مارچ ۱۹۰۹ء) : انسان بیٹے کو پہچانتا ہے اور اسے اپنا بیٹا مانتا ہے حالانکہ اگر شک کرنے لگے تو پھر مشکلات کا سامنا ہے۔ممکن ہے کہ وہ اس کے نطفے سے نہ ہو۔اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے اِتنی حد تک تو ہم سمجھا چکے ہیں کہ جتنی حد تک بیٹے کے لئے ثبوت درکار ہے اور اگر شک کرنے لگے تو پھر کئی شبہات ہیں۔(ضمیمہ اخبار بدرؔقادیان ۲۵؍مارچ ۱۹۰۹ء) ؔ: قرائن سے اپنی اولاد کو پہچانتا ہے۔شُبہ تو ہو سکتا ہے۔(تشحیذالاذہان جلد ۸ نمبر ۹صفحہ ۴۴۰) اِس سوال کے جواب میں کہ’’ہادیٔ اسلام متشکک تھے ‘‘تحریر فرمایا:۔’’بڑی دلیل سائل کی سُورۂ بقرۃکی آیتِ ذیل ہے: سو اِس کا پہلا جواب یہ کہ لَا نفی کا صیفہ ہے نہ نہی کا اور تاکید کے واسطے نُون شدّد اس کے آخر زیادہ کیا گیا تو لَا ہو گیا۔مشدّد نُون ماضی اور حال پر نہیں آ سکتا۔پس لَا