حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 22
۔نہ ان لوگوں کی راہ جن پر تیرا غضب دُنیا میں ہی آیا۔اِس سے پہلی آیت میں جلبِ خیر کا ذکر ہو چکا اَب دفع ضرر کی دعا تعلیم کی اور اس سے مراد یہودی ہیں جنہوں نے غضبِ الٰہی حاصل کیا۔وہ کیا افعال تھے جن سے وہ مغضوب ہوئے اس سے سارا قرآن بھرا ہؤا ہے انشاء اﷲ اپنے وقت پر ذکر ہو گا۔(البدر ۱۶؍جنوری ۱۹۰۳ء) : یہود جن میں بے جا عداوت ہے اور عِلم پڑھ کر عمل نہیں کرتے۔ : بہکے ہوئے نصارٰی جنہوں نے اپنے نبی سے بے جا محبّت کی اور علومِ اِلٰہی کو سیکھنے کی بجائے اپنی رائے کے تابع ہوئے۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۴؍فروری ۱۹۰۹ء) : راستہ سے بہک جانے والے۔بے جا محبّت کرنے والے بے علم۔حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے اِس کے معنے گُم ہو جانے والے کے کئے ہیں کیونکہ یہ لوگ آخر اس سِلسلہ میں گُم ہو جائیں گے اور اِس مضمون پر دلیل یہ آیتِ قرآنی ہے ۔(سجدہ:۱۱) (البدر ۱۶؍جنوری ۱۹۰۳ء) ضَآلِّیْن :ان کے دو نشان ہیں۔۱۔الٰہیّات کا عِلم نہ ہو(کہف: ۶)۔۲۔کِسی سے بے جا محبّت جیسے نصارٰی۔ضَآلِّیْن میںچونکہ شدّ و مد ہے اس میں بتایا کہ ان کا زمانہ لمبا اور مضبوط ہو گا۔(تشحیذالاذہان ماِ ہ ستمبر ۱۹۱۳ء) اس اُمّت میں۔مَغْضُوْب اورضَالّ تینوںقِسم کے لوگ موجود ہیں پس وہ مسیح موعود علیہ السّلام بھی موجود ہے جس نے ہم میں نازل ہونا تھا وہ مہدی معہود اور اس وقت کا امام بھی ہے اور انہی میں موجود ہے۔وہ اختلافوں میں حَکم۔ہم نے اس کی آیاتِ بیّنات کو دیکھا اور ہم گواہی دیتے ہیں اور اﷲ تعالیٰ سے ڈر کر،جزاسزا،حَشراجساد،جنّت و نار، اپنی بے ثبات زندگی کو نصبُ العَین رکھ کر اس کو امام مان لیا ہے۔(دیباچہ نورالدین صفحہ ۵۷) ہم نے تین دعائیں الحمد میں کی ہیں۔منعَم علیہ بنیں۔اور ضَالّنہبنیں۔ہرسِہ خدا نے قبول کی ہیں۔انعام ان پر ہؤا جو متّقی ہیں۔مغضوب بے ایمان ، منکر ہیں جن کو وعظ کرنا نہ کرنا برابر ہو۔ضالّین منافق لوگ ہیں۔ہرسِہ کا ذکر الحمد میں ہے پھر ترتیب وارہرسہ کا ذکر سُورۃ بقرہ کے ابتدامیں ہے۔یہ قرآن شریف کی ترتیب کا ایک نمونہ ہے۔(بدر ۲۳؍مئی ۱۹۱۲ء صفحہ۳)