حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 233 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 233

اُردو ترجموں میں لفظ وحشی اور جنگلی لکھا ہے جو ٹھیک لفظ عربی یا اُمّی کا مترادف ہے ( دیکھیں تو اہلِ کتاب اسے کیونکر گوارا کر سکتے ہیں ) پیدائش ۱۷باب ۱۵ آپ کے فرزند کے باعث آپ سرے سے سرہ ہوئیں۔پیدائش ۱۷باب۱۵ آپ کے فرزند کے باعث آپ کے شوہر کا نام ابرام سے ابرہام ہؤا۔(فصل الخطاب حِصّہ دوم صفحہ ۲۰تا ۲۴) دعاؤں سے کبھی گھبرانا نہیں چاہا۔ان کے نتائج عرصہ دراز کے بعد بھی ظہور پذیر ہوتے ہیں لیکن مومن کبھی تھکتا نہیں۔قرآن شریف میں دعاؤں کے نمونے موجود ہیں ان میں سے ایک ابراہیم علیہ السلام کی دعا ہے وہ اپنی اولاد کے لئے کیا خواہش کرتے ہیں۔رَبَّنَا وَ ابْعَث ْ فِیْھِمْ رَسُوْلًا مِّنْھُمْ اِس دعاپر غور کرو حضرت ابراہیمؑ کی دعا روحانی خواہشوں اور خدا تعالیٰ کے ساتھ آپ کے تعلّقات بنی نوع انسان کی بھلائی کے جذبات کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے۔وہ دعا مانگ سکتے تھے کہ میری اولاد کو بھی بادشاہ بنا دے مگر وہ کیا کہتے ہیں۔اے ہمارے رَبّ میری اولاد میں انہیں میں کا ایک رسول مبعوث فرما۔اس کا کام کیا ہو؟ وہ ان پر تیری آیات تلاوت کرے او راس قدر قوّتِ قدسی رکھتا ہو کہ وہ ان کو پاک و مطہّر کرے اور ان کو کتاب اﷲ کے حقائق و حِکم سے آگاہ کرے۔اسرارِ شریعت ان پر کھولے۔پس یہ ایسی عظیم الشّان دُعا ہے کہ کوئی دعا اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی اور ابتدائے آفرینش سے جن لوگوں کے حالاتِ زندگی ہمیں مِل سکتے ہیں۔کسی کی زندگی میں یہ دعا پائی نہیں جاتی۔حضرت ابراہیمؑ کی عالی ہمّتی کا اِس سے خوب پتہ چلتا ہے۔پھر اِس دعا کا نتیجہ کیا ہؤا اور کب ہؤا؟عرصہ دراز کے بعد اس دعا کے نتیجہ میں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم جیسا انسان پَیدا ہؤا اور وہ دُنیا کے لئے ہادی اور مصلح ٹھہرا۔قیامت تک رسول ہؤا اور پھر وہ کتاب لایا جس کا نام قرآن ہے اور جس سے بڑھ کر کوئی رُشد،نور اور شفا نہیں ہے۔(الحکم ۱۰؍مارچ ۱۹۰۴ء صفحہ ۴) یہ ایک دعا ہے جو کہ حضرت ابراہیم علیہ السّلام نے جنابِ ربّ العزّت اور ربّ العالمین اﷲ جلّ شانہ، کے حضور مانگی ہے۔اِس سے ظاہر ہے کہ اِس دُنیا میں اِسلام کے آنے اور اس کے ثمرات کے ظہور کے لئے اﷲ تعالیٰ کے فضل سے حضرت ابراہیمؑ کے ذریعہ ایک دعا کی تقریب پَیدا کر دی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ تُو ہمارا ربّ اور مربّی اورمُحسن ہے۔تیری عالمگیر ربوبیّت سے جیسے جسم کے قوٰی کی پرورش ہولتی ہے۔عمدہ اور اعلیٰ اخلاق سے انسان مزیّن ہوتا ہے ویسے ہی ہمارے رُوح کی بھی