حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 21
اسباب معلوم ہوں تو ہم کیوں مُفلس رہیں؟ عزّت کے اسباب دریافت ہو جاویں تو جلد ترذِی عزّت ہو رہیں۔ذِلّت کے اسباب معلوم ہوں تو ان سے بچیں اور ذلیل نہ ہوں۔پادشاہ ہو جانے کے اسباب دریافت ہوں تو پادشاہ بنیں۔غرض ہر وقت ہر آن میں ہم کو ضرور ہے کہ خداوندِ کریم کی درگاہ میں سوال کرتے رہیں کہ الٰہی فلاں کام میں سببِ حقیقی کی راہنمائی فرما۔فلاں میں راہنمائی عطا کر۔اگر ہر وقت کاموں کی ضرورت ہو تو ہر وقت کی ضرورت بھی لگی ہوئی ہے۔ہر صبح نماز کے بعد کئی بار اسی طرح کیا ساری الحمد فکروں کے ساتھ پڑھنی چاہیئے۔(الحکم ۲۸؍فروری ۱۹۰۲ء صفحہ ۲) ۔جن پر تیرا انعام ہؤا۔منعَم علیہ کی تفسیر خود قرآن نے کر دی ہے۔ (نساء:۷۰) انسانی افعال کے چار ہی مراتب ہؤا کرتے ہیں۔اوّلؔ مطلق کام صلاحیّت سے کرنا۔اسے صالح کہتے ہیں۔دوسرےؔ جب آقا یا حاکم سر پر کھڑا ہو تو وہ اِس کام کو اَور بھی تیزی سے کرتے ہیں تو اسے شہید کہتے ہیں۔تیسرےؔ ٹھیکہ کے طور پر کام کرنا جس میں انسان کو خود بخود ہی ایک فِکر لگی ہوتی ہے کہ اس میں کوئی نقص نہ رہے اور بڑی دیانت سے کام لیتا ہے اسے صدّیق کہتے ہیں۔چوتھےؔ ایک کام میں اپنے آپ کو ایسا محو کرنا کہ وہ طبعی تقاضا ہو جاوے اور جیسے ایک مشین انجن کے زور سے خود بخود کام کرتی ہے نہ تھکتی ہے نہ سُست ہوتی ہے اسی طرح افعالِ حَسنہ کا اس سے سرزد ہونا۔اسے نبی کہتے ہیں۔(البدر ۱۶؍جنوری ۱۹۰۳ء) ۔جن پر انعام ہؤا۔وہ نبی۔صدیق۔شہید اور صالح ہیں۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۴؍فروری ۱۹۰۹ء) خدا کا کِسی کو نِعمت دینا اور بِدُوں کسی سابق مزدوری اور کسی محنت کے اﷲ تعالیٰ کا اِنعام اور اِکرام کرنا۔اس کی رحمت اور فضل کا نشان ہے جو باری تعالیٰ کی اعلیٰ درجہ کی صِفت ہے۔(تصدیق براہین احمدیہ صفحہ ۱۸۷)