حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 225 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 225

  : اَب بنی اسرائیل کے بعد ایک اَور سلسلہ کی طرف متوجّہ ہؤا ہے۔وہ بھی اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ تھے۔مُنعَم ہونے کے بعد ان میں سے بھی مغضوب و ضال ہو گئے۔ابْتَلٰی:عربی زبان میں کہتے ہیں کسی چیز کے ظاہر کر دینے کو۔قرآن شریف میں یہ محاورہے(الطارق:۱۰،۱۱)اَبْلَاہُ:اَظْمَوَرَدْائَ تَہ‘ وَ جَوْدَتَہ‘فلاںچیز کے ردّی یا جیّد ہونے کو ظاہر کیا۔پس اﷲ نے ابراہیمؑ کو کچھ احکام دئیے (کَلِمٰتٍ کے یہی معنے ہیں)جو انہوں نے پُورے کئے۔تو ان کا جیّد ہونا ظاہر ہو گیا۔ایک دوسرے مقام پر فرمایا۔ (السجدۃ:۲۵) یعنی ہم امام اُس وقت بناتے ہیں جب انسان احکامِ الہٰی پر ثابت قدم ہو جاوے اور ہماری آیات پر پُورا یقین رکھے۔خیر جب ابراہیمؑ کے جیّد ہونے کو ظاہر کر دیا تو ارشاد ہؤا کہ مشرک اس عہد کے لائق نہیں۔اِس سے معلوم ہؤا کہ آپ کی قوم میں ایسے لوگ بھی ہونے والے تھے۔اِنّی جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ اِمَامًا: میں تمہیں نمونہ اور مقتدا بنانے والاہوں۔آپ نے اپنی اولاد کے بارے میں دریافت کیا تو ارشاد ہوا کہ مشرک اس عہد کے لائق نہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ آپ کی قوم میں ایسے لوگ بھی ہونے والے تھے۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۱۱؍ مارچ ۱۹۰۹ء)