حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 220
نہیں۔کچھ اپنی اصلاح بھی چاہیئے۔ہمیشہ کسی دوسرے کی عیب چینی سے پہلے اپنی گذشتہ عمر پر نگاہ ڈالو کہ ہم نے اتّباعِ رسول صلّی اﷲ علیہ وسلّم پر کہاںتک قدم مارا اور اپنی زندگی میں کتنی تبدیلی کی ہے۔ایک عیب کی وجہ سے ہم کِسی شخص کو بُرا کہہ رہے ہیں۔کیا ہم میں بھی کوئی عیب ہے یا نہیں اور اگر اس کی بجائے ہم میں یہ عیب ہوتا اور ہماری کوئی اس طرح پر غیبت کرتا تو ہمیں بُرا معلوم ہوتا یا نہیں… عیب شماری سے کوئی نیک نتیجہ نہیں نکل سکتا۔کسی کا عیب بیان کیا اور اُس نے سُن لیا۔وہ بُغض و کینہ میں اَور بھی بڑھ گیا تمہیں کیا فائدہ ہؤا؟ بعض لوگ بہت نیک ہوتے ہیں اور نیکی کے جوش میں سخت گیر ہوتے ہیں اور امر بالمعروف ایسی طرز میں کرتے ہیں کہ گناہ کرنے والا پہلے تو گناہ کو گناہ سمجھ کر کرتا تھا پھر جھنجھلا کر کہہ دیتا ہے کہ جاؤ ہم یُونہی کریں گے۔(بدر ۲۸؍جنوری ۱۹۰۹ء صفحہ ۹) :خدا کا خوف دل میں رکھ کر اَدب و تعظیم و عاجزی سے آتے اور کسی کا نقار دل میں نہ ہوتا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۱؍مارچ ۱۹۰۹ء) اِلَّا:اﷲ کے خوف سے معمور ہو کر آئے (تشحیذالاذہان جلد ۸ نمبر۹ صفحہ۴۳۹) افسوس کہ لوگ اگر ذرا بھی آسودگی پاتے ہیں تو مخلوقِ الہٰی کو حقارت سے دیکھتے ہیں۔اس کا انجام خطرناک ہے۔ان لوگوں میں تحقیر کا مادہ یہاں تک بڑھ جاتا ہے کہ اگر کِسی کی طاقت مسجد کے متعلق ہے تو وہ ان لوگوں کو جو اس کے ہم خیال نہیں مسجد سے روک دیتا ہے اور یہ نہیں سمجھتا کہ آخر وہ بھی خدا ہی کا نام لیتا ہے۔ایسا کر کے وہ اس مسجد کو آباد نہیں بلکہ ویران کرنا چاہتا ہے۔بارہویں صدی تک اِسلام کی مسجدیں الگ نہ تھیں بلکہ اس کے بعد سُنّی اور شیعہ کی مساجد الگ ہوئیں