حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 219
(البقرۃ:۱۱۴) یہود نے کہا نصرانی کچھ بھی نہیں۔نصرانیوں نے کہا یہود کچھ بھی نہیں حالانکہ کتاب پڑھتے ہیں۔اِس طرح تو بے علم لوگوں نے کہا ہے یا کیا ہے۔(دیباچہ نورالدین صفحہ ۸ ایڈیشن سوم) یہ ایک عیب ہے کہ کوئی شخص دوسرے کی نسبت رنج پیدا کر لیتا ہے۔اگر آدمی حد سے بڑھ جائے تو یہ بھی ایک قِسم کا جنون ہے۔ایسا ہی نصارٰی اور یہود میں رنج پیدا ہو گیا کیونکہ یہودیوں نے حضرت عیسٰیؑ کو حقارت سے دیکھا اور رنج کیا تھا اِس لئے نصارٰی ان پر عیب جوئی کرتے ہیں اور ایک دوسرے کو لاشَیٔ یقین کرتے ہیں۔:حالانکہ وہ کتاب پڑھتے ہیں اور پڑھے ہوؤں کا یہ حال ہے۔ایسا ہی آجکل مولوی، وہابی یا حنفی اور یا دوسرے متفرق الطریق لوگ دوسروں پر اس قدر فتوے لگاتے ہیں جن کا شمار نہیں ہو سکتا۔پھر وہ سب پڑھے ہوئے۔اَب جاہلوں کی بات تو سمجھتے نہیں۔اَب ان کو سمجھائے کون۔:یہ لوگ جو مسجدوں سے منع کرتے ہیں آخر ذلیل ہوں گے۔کامیابی کا مُنہ نہ دیکھیں گے۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۱۱؍مارچ ۱۹۰۹ء) عیب چینی کی راہ بہت ہی خطرناک راہ ہے۔عیسائیوں نے اس راہ پر قدم مارا نقصان اُٹھایا۔ایک نبی کی معصومیّت کے ثبوت کے لئے سب کو گُناہ گار قرار دیا۔پھر آریہ نے بھی یہی طریق اختیارکیا۔وہ بھی دوسرے مذاہب کو گالیاں دینا جانتے ہیں۔پھر شیعہ ہیں وہ بھی خلفائے راشدین پر تبّرہ بھیجنے کے گناہ میں پڑ گئے۔ایک دفعہ امرتسر میں مَیں نے ایک شخص کو قُرآن کی بہت ہی باتیں سنائیں۔میرا ازاربند اِتفاق سے ڈھیلا ہو گیا۔آخر اُس نے مجھ پر یہ اعتراض کیا کہ تمہارا پاجامہ ٹخنوں سے کیوں نیچا ہے مَیں نے کہا اِتنے عرصہ سے جو تم میرے ساتھ جو تمہیں کوئی بھلائی مجھ میں نظر نہیں آئی سوائے اس عیب کے اور یہ عیب جو تم نے نکالا یہ بھی ٹھیک نہیں کیونکہ حدیث میںجَرَّ ثَوْبَہ‘ خمیلَائَ آیا ہے اور یہاں اِس بات کا وہم تک نہیں۔اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے ۔گویااِس طرح کہنالَا یَعْلَم کہنا لوگوں کا دستور ہے۔عیب شماری کی طرف ہر وقت متوجّہ رہنا ٹھیک