حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 20 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 20

۳۔توفیق جیسے (محمّد: ۱۸) ۴۔کامیاب بامراد کرنا جیسے فرمایا (اعراف:۴۴) خدا ہی کی حَمد ہے جس نے ہمیں یہ کامیابی عطا کی۔(البدر ۱۶؍جنوری ۱۹۰۳ء) ۔چلا ہم کو۔جمع کا صیغہ ہے۔مومن کو چاہیئے کہ صرف اپنے واسطے دعا نہ کرے بلکہ دوسروں کو بھی ساتھ شامل کر لے۔ہدایت عموماً چار ذرائع سے ہے۔۱۔قوّت دینا۔فطری قوٰی بخشنا۔۲۔ایک نیکی کے بعد دوسری نیکی کی توفیق دینا۔۳۔اس مقصد پر پہنچانا جو نیکی کے واسطے مقدّر ہو۔۴۔راستہ بتلا دینا۔ٍ۔اقرب راہ۔جو سب سے زیادہ نزدیک ہو۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۴؍ فروری ۱۹۰۹ء) ۱۔ہدایت۔قوٰی فطری کا عطا کرنا۔(طٰہٰ:۵۰) ۲۔عطاء فہم ۳۔انبیاء کی تعلیم سے بُرے بھلے راہوں کو دکھانا۔(البلد:۱۱) ۴۔بہشت میں پہنچانا۔چنانچہ جنتی کہیں گے (الاعراف:۴۴) ( تشحیذالاذہان بابت ماہ ستمبر ۱۹۱۳ء) ۔اِس کا یہ مطلب ہے کہ کوئی کام اِس دُنیا میں بِدُوں کسی سبب کے نہیں ہوتا۔ظاہری اندھیرے کے لئے سُورج،چاند،چراغ،برق وغیرہ کیلئے روشنی چاہیئے ،سینے کو ہَوائے سرما کے واسطے گرم کپڑاآگ چاہیئے۔دوسرے دوست کے مطالب سمجھنے کو خط و کتابت، پیغام چاہیئے۔دریا سے پار اُترنے کو کشتی چاہیئے شنائی تلہ وغیرہ چاہیئے۔پیاس کے دُور کرنے کو پانی۔بُھوک کے لئے غذا۔جلد پہنچنے کو ریل۔جلد خط بھیجنے کو تار کی خبر۔اِسی طرح دیکھتے جاؤ کوئی کام بِدُوں سبب نہیں جن کاموں کو آپ بدوں سبب جانتے ہو وہ بھی حقیقت میں سبب کے ساتھ پیوستہ ہیں۔سے یہ مطلب ہے کہ الٰہی کوئی کام بِدُوں سبب واقعی نہیں ہؤا کرتا اور ہم کو کاموں کے اسباب ٹھیک ٹھیک معلوم نہیں اِس لئے ہمارے کام نہیں ہوتے۔اگر بیماری کی صحت کا ٹھیک سبب معلوم ہو تو ہمارے بیمار کیوں بیمار رہیں؟ اور اگر دفع افلاس کے واقعی