حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 215
مگر ان کا یہ اعتراض فضول تھا کیونکہ واقعات نے ثابت کر دیا کہ واقعی یہی مبارک وجود ( حضرت محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم) اِس رسالت کا مستحق تھا۔میرا اعتقاد ہے کہ نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم خاتم انسانیّت ہیں۔نہ ایسا کوئی عظیم الشّان ہؤا اور نہ ہو گا۔ایک شخص نے مجھے پوچھا کہ اس کی کیا دلیل ہے؟ مَیں نے کہا کہ تم کسی اصلِ مذہبی کے قائل ہو یا نہیں۔کہا۔دعا کا قائل ہوں۔مَیں نے کہا۔دیکھو تم مانتے ہو کہ تمام مسلمان نماز پڑھتے ہیں اور زمین گول ہے۔پس رُوئے زمین پر کوئی ایسا وقت نہیں گزرتا جب کوئی مسلمان نماز نہ پڑھ رہا ہو اور نماز میں درود شریف نہ پڑھتا ہو۔پھر مَیں پوچھتا ہوں کیا دُنیا میں کوئی ایسا پیشوا ہے جس کے مرید ہر وقت اس کے علّوِ مدارج کے لئے دعا کر رہے ہوں اور پھر اَلدَّالُ عَلَی الْخَیْرِ کَفَاعِلِہٖکے مطابق وہ تمام نیکیاں جو یہ لوگ (مسلمان) کرتے ہیں حضور کے نامئہ اعمال میں بھی لکھی جاتی ہوں گی یا نہیں۔پھر فضائلِ نبوی میں دوسری بات مجھے یہ سُوجھی ہے کہ دُنیا میں جس قدر مرکز ہدایت کے ہیں وہ در اصل صرف دو ہیں ایک آتشکدۂ آذر اور دومؔ بَیت المقدس۔ان دونوں کا اثر عرب پر بالکل نہیں پڑا مگر ہمارے سردارنے عرب الوں کو اپنا دین منوا لیا اور پھر ان کے ذریعہ ان دونوں مرکزوں (بیت المقدس، آتشکدہ آذری) پر بھی فتح پائی۔مَانَنْسَخْ مِنْ اٰیَۃٍ اَوْنُنْسِھَا:نسخ کے معنے ہیں نقل کے۔اِنَّا کُنَّ نَنْسَخُ مَاکُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَاورنسخ کے معنے ہیں مٹا دینے کے جیسے فرمایا(الحج:۵۳)نُنْسِھَانکلا ہے نسیان سے۔اِس صورت میں اس کے معنے ہیں’’ ہم بھُلا دیتے ہیں‘‘ یانسأبمعنی تاخیر ہے۔اِس صورت میں اِس کے معنے ہیں’’ ہم مؤخر کر دیتے ہیں۔‘‘ سو اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر ہم کسی چیز کو بدلاتے یا مٹاتے ہیں یا بالکل بھُلاتے اور کسی دوسرے سے تاخیر میں ڈال دیتے ہیں تو اس میں ہمارے مصالح ہوتے ہیں۔اس کی مثال سُنئے!قرآنِ مجید میں ایک تعلیم ہے ۔۔(المدّثّر:۲تا۴)اور پھر اخیر میں کھانے پینے کے احکام نازل فرمائے اور ارشاد کیا (المآئدۃ:۴)تواَب پہلی تعلیم کو جو مقدّم کیا اور دوسری کو مؤخر تو خاص مصلحت سے ہے ( یعنی پہلے عقیدہ درست ہو جاوے پھر شریعت نازل ہو)۔دوسری مثال یہ ہے کہ بعض مذاہب ایسے ہیں جو بالکلنسیًا منسیًا ہو گئے اور بعض ایسے جن کے اصول کچھ تو موجود ہیں مگر بہت کچھ تبدیل ہو گئے۔