حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 214
شرارت سے پُر تھے ایک مصرعہ تمہیں سُناتا ہوں تاسرت باشد ہمیشہ تاجدار یہاں تاجدار کے ایک معنے ظاہر ہیںاور دوسرے یہ کہ تاجِدار یعنی تیرا سر دیوار سے ٹکر کھائے گیا ہو۔اِس طرح کے کلام سے ہمارے سردار نے ہمیں منع کیا ہے چنانچہ وہ فرماتا ہے رَاعِنَانہ کہو کیونکہ اِس کے معنے ایک تو یہ ہیں کہ ہماری رعایت کرو۔ہم نہیں سمجھے دوبارہ سمجھا دو۔سومؔراعنؔکا لفظ عبر ومیں گالی ہے۔احمق ، رعونت والے کو کہتے ہیں۔اگر ایسی ضرورت پیش آ جائے تو بجائے رَاعِنَاکے جو ذومعنی لفظ ہے اُُنْظُرْنَا بولوجس کے معنے ہیں ہم غرباء کی طرف بھی آپ نظر رکھیں۔ان منکروں کے لئے جو اِس قِسم کے الفاظ نبی کریم صلّی اﷲعلیہ وسلم کے حضور بولتے ہیں دُکھ دینے والا عذاب ہے۔اَلَّذِیْنَ کَفَرُوْا: یہ کافر دو قِسم کے ہیں اہل کتاب( یہود، نصارٰی، مجوس) دوسرے وہ جن کے پاس کوئی کتاب نہیں۔سُنی سُنائی باتوں پر ایمان رکھتے ہیں۔غرض یہ دونوں گروہ پسند نہیں کرتے کہ تم پر کوئی ایسا امر اُتارا جائے جو خیروبرکت کا موجب ہو مگر اﷲ تعالیٰ خصوصیّت دے دیتا ہے اپنی رحمت سے جسے چاہے۔مکّہ والوں نے کہا کہ (الزخرف:۳۲)