حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 213
لوگ جن کے دلوں میں کینہ اور عداوت ہوتی ہے تو اپنے حریف کو ایسے الفاظ سے مخاطب کرتے ہیں جس میں ایک پہلو بدی کا بھی ہوتا ہے۔اِس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ڈرپوک ہوتے ہیں کُھل کر کسی کو بُرا نہیں کہہ سکتے۔رَاعِنَاایک لفظ ہے جس کے کئی معنی ہیں۔یہ رعونت ، بُرائی ، خودپسندی، حماقت کے معنوں میں بھی آتا ہے اور اس کے یہ معنے بھی ہیں کہ آپ ہماری رعایت کریں۔اﷲ تعالیٰ نے مومنوں کو یہ سکھایا ہے کہ ایسا لفظ اپنے کلام میں اختیار نہ کرو جو ذومعنی ہو بلکہ ایسے موقع پراُنْظُرْنَا کہا کرو۔اِس میں بدی کا پہلو نہیں ہے۔ایک شخص نے مجھ سے اصلاح کا ثبوت قرآن مجید سے پوچھا مَیں نے یہی آیت پڑھ دی۔اﷲ تعالیٰ یہ نصیحت فرما کر متنبّہ کرتا ہے کہ جو لوگ انکار پر کمر باندھے ہیں اور حق کا مقابلہ کرتے ہیں وہ دُکھ دَرد میں مُبتلا رہتے ہیں۔اس کے آگے کافروں کا رویّہ بتایا ہے کہ یہ اہلِ کتاب اور مشرکین تمہارے کسی سُکھ کو محض از رُو ئے حَسد دیکھ نہیں سکتے۔اس حَسد سے ان کو کچھ فائدہ سوا اِس کے کہ جَل جَل کر کباب ہوتے رہیں نہیں پہنچ سکتا۔یہ حَسد بڑا خطرناک مرض ہے اِس سے بچو۔اﷲ تعالیٰ کے علیم و حکیم ہونے پر ایمان ہو تو یہ مرض جاتا رہتا ہے۔دیکھو مَلمل کا کپڑا ہے کوئی اسے سر پر باندھتا ہے۔کوئی اس کی قمیص بناتا ہے۔کوئی زخموں کے لئے پٹی۔سب جگہ وہ کام دیتا ہے اور سبھی جگہ واقعہ میں اس کی ضرورت ہے۔اِسی طرح اگر انسان سمجھ لے کہ خدا تعالیٰ کے عجائباتِ قدرت سے جو کام ہو رہے ہیں وہ بِلاضرورت و حکمت کے نہیں تو معترض کیوں ہو۔اگر خدا تعالیٰ نے ایک قوم کو اپنی رحمتِ خاصّہ کے لئے چُن لیا ہے تو یہ کیوں جلتے ہیں؟ یہ تو عام قانونِ قدرت ہے کہ آج ایک درخت بغیر پھُول اور پھَل پتّوں کے بالکل سو ختنی ہئیت میں کھڑا ہے۔اَب بہار کا موسم آ گیا تو اس میں پتّے لگنے شروع ہوئے پھر پھُول پھر پھَل۔اِسی طرح قوموں کی نشوونما ہے ایک وقت ایک قوم برگزیدہ ہوتی ہے لیکن جب وہ انعامات کے قابل نہیں رہتی تو خدا تعالیٰ دوسری قوم کو چُن لیتا ہے اور وہ پہلی قوم ایسی مِٹ جاتی ہے کہ بالکل بھُلا دی جاتی ہے یا اس کی حالت تبدیل ہو جاتی ہے۔غرض اِس جہان میں اِس طرح بہت تغیّر ہوتے رہتے ہیں۔ایک شریعت دی جاتی ہے پھر اس کی بجائے دوسری۔اِس بناپراﷲ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم کوئی نشانِ قدرت نہیں بدلتے اور نہ اسے ترک کرتے ہیں مگر کہ اس کی مثل یا اس سے اچھا لاتے ہیں