حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 208 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 208

ماروت فرشتوں کے نام۔ان کے ذریعے علم پا کر یہود نے دشمنوں پر فتح حاصل کر لی۔ان کو بتایا گیا اب تم محمد رسول اﷲ (صلی اﷲ علیہ وسلم) کے مقابلہ میں ان ہتھیاروں سے کام نہیں لے سکتے کیونکہ الہٰی حکم سے یہ خفیہ کمیٹی نہیں۔بَیْنَ الْمَرْئِ وَ زَوْجِہٖ۔آجکل بھی فری میسن عورتوں کو شامل نہیں کرتے۔وَمَا ھُمْ بِضَآرِّیْنَ اس کی تشریح(المجادلۃ:۹)میں پڑھو اس میںلَیْسَ بِضَآرِّھِمْ شَیْئًا اِلَّا بِاِذْنِ اﷲِ بھی ہے۔(تشحیذالاذہان جلد ۸نمبر۹ صفحہ ۴۳۸،۴۳۹) بہت سے لوگ ہیں کہ جب فرشتوں کی تحریک ہوتی ہے تو وہ اس تحریک کو پیچھے ڈال دیتے ہیں اور اﷲ کی نیک آیات کو واہیات بناتے ہیں۔بڑے تعجّب کی بات ہے کہ جب قبض وغیرہ ہو تو پھر کہتے ہیں کہ خیر اﷲ غفور رحیم ہے۔اس کی جَڑ یہ ہے کہ انسان اپنی خواہشات کو مقدّم کر لیتا ہے۔حضرت سلیمان علیہ السلام کے عہد میں جب لوگوں کو امن حاصل ہؤا اور مال ثروت کی فراوانی ہوئی تو ان میں نٔی نٔی تحریکیں ہونے لگیں۔آسمانی کتب کا جو مجموعہ ان کے پاس تھا اس سے طبیعت اُکتا گئی تو کِسی اور تعلیم کی خواہش ہوئی۔مگر وہ تعلیم ایسی تھی جو خدا سے دُور پھینکنے والی تھی۔نقشِ سلیمانی وغیرہ اسی تعلیم کی یادگار بعض مسلمانوں میں مروّج ہے۔بنی اسرائیل نے جب خدا کی کتاب سے دِل اُٹھایا تو ان لغو باتوں میں پڑ گئے جو بعض شیطانی اثروں کے لحاظ سے دِلرُبا باتیں بن گئیں۔خدا تعالیٰ نے فرمایا یہ سب اِس زمانہ کے شریروں کی کاروائی ہے سلیمان علیہ السّلام نے ان کو یہ تعلیم نہیں دی بلکہ از خود یہ باتیں انہوں نے گھڑ لیں اور ایسی دِلرُبا باتوں کی اشاعت کی۔(بدر ۴؍فروری ۱۹۰۹ء صفحہ۳) اِنسان میں عجیب در عجیب خواہشیں پیدا ہوتی رہتی ہیں۔جب وہ بچّہ ہوتا ہے پھر جب ہوش سنبھالتا ہے پھر جب جوان ہوتا ہے پھر جب بُری صحبتوں میں پھنستا ہے۔جب اچھی صحبتوں میں آتا ہے جب کامیاب زاندگی بسر کرتا ہے جب ناکام ہوتا ہے تو اس کے حالات میں تغیّر پیش آتے رہتے ہیں۔مَیں نے ایک خطرناک ڈاکو سے پوچھا کہ کبھی تمہارے دِل نے ملامت کی ہے تو وہ کہنے لگا کہ تنہائی میں ضرور ضمیر ملامت کرتا ہے مگر جب ہماری چاریاری اکٹھی ہوتی ہے تو پھر کچھ یاد نہیں رہتا اور نہ یہ افعال بُرے لگتے ہیں یہ سب صحبتِ بَد کا اثر ہے۔قُرآن کریم میں(التوبۃ:۱۱۹) کااِسی واسطے حکم آیا ہے تاکہ انسان کی قوّتیں نیکی کی طرف متوجّہ رہیں اور نیک حالات میں نشوونما پاتی رہیں۔غرض انسان کے دُکھوں میں اَور خیالات ہوتے ہیں سُکھوں میں اَور۔اور کامیاب ہو تو اَور طریق ہوتا ہے اور ناکام ہو