حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 19
وہی ہے جو خود اﷲ تعالیٰ اپنے رسول کی معرفت بتائے باقی سب ہیچ۔ واؤ حالیہ ہے۔تیری عبادت ہم اس وقت کر سکتے ہیں کہ تُو ہی توفیق دے۔(تشحیذالاذہان بابت ستمبر ۱۹۱۳ء) واؤ حالیہ ہے ہم تیری عبادت کرتے ہیں اور اِس حال میں کہ تجھ سے مدد چاہتے ہیں کیونکہ تیرے فضل کے سوائے عبادت کی توفیق بھی حاصل نہیں ہو سکتی۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۴؍ فروری ۱۹۰۹ء) (اِس اعتراض کے جواب میں کہ چوری،قتل،ڈکیتی، قماربازی کے لئے بھی یہی کلام (۔ناقل) مسلمانوں اور ان کے مُلّانوں کا وظیفہ ہؤا کرتا ہے( فرمایا )چوری،ڈکیتی،قماربازی خدا ئی کی عبادت نہیں اورسے پہلےکا لفظ ہے جس کے یہ معنے ہیں کہ تیرے ہی فرماں بردار ہوں یا رہیں اور کے بعد موجود ہے جس کے معنے ہیں دکھا ہمیں سیدھی راہ۔(تصدیق براہین احمدیہ صفحہ ۱۸۲) ۔خطِ مستقیم اسے کہتے ہیں جو دو نقطوں کے درمیان چھوٹے سے چھوٹا خط کھِچ سکے۔اِس لئے اِس کے معنے ہوئے بہت ہی اَقرب راہ جو ہر ایک قِسم کی افراط اور تفریط سے پاک ہو۔(البدر ۱۶؍جنوری ۱۹۰۳ء) ہم کو سیدھی راہ یا قریب ترین راہ (پر) چلا۔ کے معنے ہدایت کر۔ہدایت کے معنے قرآن شریف میں چار طرح پر آئے ہیں:۔۱۔قوٰی یا خواصِ طبعی۔کہ جس سے ہر ایک شئے اپنے اپنے فرضِ منصبی کو بجا لا رہی ہے۔قرآن شریف نے یہ معنے بیان کئے ہیں جہاں فرمایا (طٰہٰ آیت: ۵۰)یعنی ہر ایک شَے کو پَیدا کر کے اس میں اس کے خواص رکھ دیئے ہیں۔۲۔حق کی طرف بُلانا۔ (شورٰی:۵۳) یعنی تُو خدا شناسی کی بہت اَقرب راہ کی طرف بُلاتا ہے۔