حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 198 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 198

 عَصَیْنَا :مان تو لیا مگر ہم سے اس پر عمل نہیں ہو سکتا۔اُشْرِبُوْا :رَچ گئی تھی۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۲۵؍ فروری ۱۹۰۹ء) ایک پہاڑی پر جس کا نام حراء ہے ہماری سرکار سے بھی اﷲ نے کلام کیا۔ایسا ہی حضرت موسٰیؑ سے بھی ایک پہاڑ پر کلام ہؤا جس کا نام طور ہے۔رَفَعْنَا فَوْقَکُمُ الطُّوْرَکے معنے ہیں کہ اس کے دامن میں سب قوم کو کھڑا کیا۔جیسے بولتے ہیں لاہور شہر راوی کے اُوپر ہے۔ایسا ہی ہجرت کی ایک حدیث میں ہے فَرُفِعَتْ لَنَا صَخْرَۃٌ تواس کے یہ معنے نہیں کہ پہاڑ اُکھیڑ کر نبی کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کے اُوپر رکھ دیا گیا۔خُذُوْامَآ اٰتَیْنٰکُمْ بِقُوَّۃٍ :جیسے بنی اسرائیل کو تورات مُحکم پکڑنے کا حُکم تھا ایسا ہی ہمیں قرآنِ مجید کے بارے میں حکم ہے۔اگر مانو گے تو فائدہ ہو گا نہ مانو گے تو گھاٹا ہی گھاٹا ہے۔عورتوں کا بڑا حصّہ تو قُرآن سُنتا ہی نہیں۔امیر بھی بدبختی سے قرآن نہیں سُن سکتے نہ با جماعت نماز پڑھ سکتے ہیں۔زمینداروں کو فرصت نہیں۔فصلِ خریف سے فراغت پا کر کماد پِیڑ نے کا موسم آ جائے گا۔پھر ہم سے سوال کئے جاتے ہیں کہ سفر میں روزہ معاف ہے تو کٹائی کے موقع پر بھی کر دیجئے حالانکہ مَیں ایسا مُجتہد نہیں۔تمہیں دُنیا میں خبر ہے یہود نے کیا کِیا ؟ انہوں نے سَبت ، خواہ ہفتہ میں ایک دن عبادت کا ، اسکے معنے کرو، خواہ آرام کے معنے لو، میں بے اعتدالی کی۔آرام میں۔آسُودگی میں انسان اپنے مولیٰ ، اپنے حقیقی مُحسن کو بھُول جاتا ہے۔مَیں نے اپنی اولاد کے لئے بھی دولت کی دعا نہیں کی۔اِس اعتداء کی پاداش میں ان کو ایسا ذلیل کیا جیسے بندر، کہ قلندر کے نچانے پر ناچتا ہے۔یہی حال آج مسلمانوں کا ہے۔ان کا اپنا کچھ بھی نہیں انگریزوں کے نچانے پر ناچتے ہیں۔جو لباس ان کا ہے وہی یہ اختیار کرتے ہیں۔جو فیشن وہ نکالتے ہیں، جو ترقی کی راہ بتلاتے ہیںبِلا سوچے سمجھے اس پر چل پڑتے ہیں۔ایسی حالت میں کب لَا خَوْفٌ وَلَا یَحْزُنُ ہو سکتے ہیں۔یہ حالت کیوں ہوئی اِس لئے کہ خدا کی کتاب کو چھوڑ دیا۔میرے پیارو! تم خدا کی کتاب پڑھو۔اس پر عمل کرو!! (الفضل ۵؍نومبر۱۹۱۳ء صفحہ۱۵)