حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 18
کِس قدر سچّے ہیں۔رات کو سو رہے۔چار پہر تین پہر سوتے رہے صبح کو اُٹھے پاخانے گئے۔وہاں سے آئے باتیں کیں۔پھر کھانے کی فِکر میں لگے۔روٹی کھائی۔پھر کچہری میں دُنیا کمانے کو گئے پھر جو جو کام وہاں کرتے ہیں اس کو ہم ہی خوب جانتے ہیں۔پھر آئے۔ہَوا خوری۔کُوچہ گردی۔سَیر بازار۔گھر آئے بال بچّہ میں لگ گئے۔لیاقت و استعداد پر الف لیلہ۔فسانہ آزاد۔کفارسیان وغیرہ وغیرہ پڑھنے بیٹھ گئے۔بتاؤ یہیکامطلب ہے پھر اگر کوئی بہت بڑا نیک ہؤا توپنجگانہ نماز بھی دربان میں پڑھ لی۔پھر اس میں ریاء، سُمْعَۃ سُستی،کاہلی، تاخیر وقت نقصان سجود، رکوع، قومہ، جلسہ وقرأت ہوتا ہے۔جو منصف ہے اسے خوب جانتا ہے۔بھلا پیارے یہی معنی کے ہوں گے؟نہیں نہیں۔بلکہ اِس کا مطلب یہ ہے کہ ہم کو ہر ایک کام میں اور بات میں رضامندی جنابِ باری تعالیٰ کی مدِّ نظر رکھنی چاہیئے۔نوکری کریں مگر اِس نیّت پر کہ روپیہ حاصل کر کے صِلہ رحمی کرینگے ماں کو، بہن کو، بھائی، بھانجا بھتیجا وغیرہ کو دیں گے صِلہ رحمی سے ربِّ تعالیٰ راضی ہو گا جہاں تک ہو سکا لوگوں کی بہتری میں کوشش کریں گے۔سوتے ہیں مگر اِس نیّت سے کہ خواب سے طاقت کمانے کی حاصل ہو گی۔بدن کو صحت میں عبادت پر لگائیں گے۔وہ روزی جس سے صِلہ رحمی ہو اور آپ سوال،چوری،فریب،دغا،قمار وغیرہ وغیرہ سے آدمی بچے۔کمانے کی طاقت اُسے نیند سے حاصل ہوتی ہے اِس واسطے سوتے ہیں۔لوگوں سے باتیں کرتے ہیں اِس خیال سے کہ باہم محبّت بڑھے اِتفاق پَیدا ہو۔جو خداوند کریم کا حکم ہے اسی طرح ہر ایک کام میں رضامندی مَولیٰ مقصود ہو اور وہی مدِّ نظر رہے توکے معنے صحیح ہم پر صادق آویں اور دعوٰی درست ہو۔اَب چلو:! اِس کے معنے ہیں تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں یہ بھی دعوٰی ہے سچّا تب ہو جب ہر کام میں ہم کو یہی خیال رہے کہ اس کا انجام اور اتمام بدوں رضامندی حضرت حق سُبحانہ، و تعالیٰ اور اس کی عنایت کے نہیں ہو سکتا۔اے خدا تُو ہی مَمد اور معاون رہ۔دیکھو کبھی زمیندار کاشتکاری کرتا ہے۔خِرمن بناتا ہے۔امّیدوار ہے کہ دانہ گھر لے جاویں خرمن کو آگ لگ جاتی ہے اور گناہ کی شامت وہ خِرمن خاکستر کا اَنبار ہو جاتا ہے۔اسی کا رحم ہو کہ معاصی عفو ہو جاویں اور اس خرمن سے ہم نفع اُٹھاویں پس ضرور ہؤا کہ میں ذاتِ باری پر اعتماد رہے۔(الحکم ۲۸؍فروری ۱۹۰۲ء صفحہ ۲) عبادات نام ہے کامل درجے کی محبّت۔کامل تعظیم اور اپنی طرف سے کامل تذلّل کا۔عبادت