حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 197 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 197

موسٰی علیہ السلام کو تو سب نبی مانتے ہو پس تم نے اس کی کیوں حکم عدولی کی۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۴؍ فروری ۱۹۰۹ء) فَلِمَ تَقْتُلُوْنَ :دیکھو متی باب ۲۳ آیت ۳۷۔(تشحیذالاذہان جلد ۸نمبر۹صفحہ۴۳۸) جہاں تک تاریخ پتہ دے سکتی ہے اﷲ تعالیٰ کے مُرسل و مامور اپنے اعداء کے سامنے ناکام ہو کر نہیں مرتے اور نہ ہلاک ہوتے اور نہ مارے جاتے ہیں۔مامورین کے ساتھ جدال وقتال ہوتا ہے… مگر یہ مقاتلہ و مقابلہ کرنے والے ناکام و نامراد مرتے ہیں اور مامور لوگ اﷲکے فضل سے مظفّر و منصور اور کامیاب ہو کر دُنیا سے جاتے ہیں۔(نور الدین صفحہ ۱۴۷) وَاِذَا قِیْلَ لَھُمْ اٰمِنُوْا بِمَآ اَنْزَلَ اﷲُ: اور جب ان کو کہا جاوے کہ اس کتاب کو مانو جس کو اﷲ نے اُتارا ہے تو وہ کہتے ہیں ہم اس کو مانتے ہیں جو ہمارے اُوپر اتاری گئی حالانکہ وہ بھی ایک حق ہے۔فرمایا: اگر تم اس کو ماننے والے ہوتے تو تم نبیوں کا مقابلہ کیوں کرتے۔وہ اگر کہیں کہ ہم ان کو نبی نہیں سمجھتے تو فرمایا کہ موسٰیؑ بھی تو توحید لائے تھے تم نے ان کا کیوں انکار کیا۔(الفضل ۲۴؍دسمبر ۱۹۱۳ء صفحہ۱۵)