حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 196
داؤد و سلیمان کا انکار کیا اور ان کی مخالفت کی۔اِس وجہ سے ان پر لعنت پڑی اور وہ تِتّر بِتّر ہو گئے۔ہسپانیہ میںاﷲ کی مخالفت ہوئی۔ان پر عذابِ الہٰی نازل ہؤا۔مسلمانوں کو وہاں سے نکال دیا گیا۔صرف عمدہ عمدہ کتابیں لے جانے کی اجازت دی گئی۔مگر ان کتابوں کے تینوں جہاز جو انہوں نے بھرے تھے بمع آدمیوں کے غرق کر دیئے گئے۔بغداد میں احکامِ الہٰی کا مقابلہ کیا گیا تو ان کا نام و نشان مٹا دیا لَھُمْ دَارُالشََّلَامِ عِنْدَرَبِّھِمْ کے تفاؤل پر اس کا نام دارالسَّلام رکھا گیا تھا۔عیسائیوں نے مسیحؑ کی مخالفت کی۔ان کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا گیا اور ان پر غضب نازل ہؤا۔ان کی کتاب میں لکھا تھا کہ اگر تم آخری نبی کو مان لو گے تو تم کو اجر ملے گا اور تم کو نجات دی جائے گی مگر انہوں نے نہ مانا اِس لئے ان کو عذابِ مہین ہو گا۔(الفضل ۲۴؍دسمبر ۱۹۱۳ء صفحہ۱۵) بِغَضَبٍ عَلٰی غَضَبٍ:مسیحؑ کی مخالفت کا غضب پھر اس نبی کی مخالفت کا غضب۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۲۵؍ فروری ۱۹۰۹ء) عَذَابٌ مُّھِیْنٌ :یہ سزا ہے استکبار کی جس کی وجہ سے انکار کیا۔(تشحیذالاذہان جلد ۸ نمبر ۹ صفحہ ۴۳۸) وَھُوَالْحَقُّ:اور وہ حق ہے اگر کتاب سچّی بھی ہو اور آپ کے کلام کی تصدیق کرنے والی بھی ہو تو پھر کیوں نہ مانے۔تَقْتُلُوْنَ :مقابلہ کرتے رہے۔اگر کہیں کہ وہ نبی نہ تھے تو اس کے جواب میں فرمایا کہ اچھا