حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 195 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 195

… اصل بات یہ ہے فَلَمَّا جَآئَ ھُمْ مَّا عَرَفُوْا کَفَرُوْابِہٖ۔آئے۔پر انکار ہی ہوتا ہے۔پھر دل لعنتی ہو جاتے ہیں ان پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔(الفضل۱۷؍دسمبر۱۹۱۳ء صفحہ۱۵) انسان میں ایک مرض ہے جس میں یہ ہمیشہ اﷲ کا باغی بن جاتا ہے اور اﷲ کے رسولور نبیوں اور اس کے اولوالعزموں اور ولیوں اور صدّیقوں کو جھُٹلاتا ہے۔وہ مرض عادت، رسم و رواج اور دَم نقد ضرورت یا کوئی خیالی ضرورت ہے۔یہ چار چیزیں مَیں نے دیکھا ہے چاہے کِتنی نصیحت کرو۔جب وہ اپنی عادت کے خلاف کوئی بات دیکھے گا یا رسم کے خلاف یا ضرورت کے خلاف تو اس سے بچنے کے لئے کوئی نہ کوئی عذر تلاش کر لے گا۔مَیں نے کئی آدمیوں کو دیکھا ہے انکو کِسی بُرائی یا بد عادت سے منع کیا جاوے تو وہ جواب دیتے ہیں کہ ہم کتنی نیکیاں کرتے رہتے ہیں۔یہ بدعادت ہوئی تو کیا۔معلوم ہوتا ہے کہ وہ بدی ان کو بدی نہیں معلوم ہوتی۔انبیاء اور خلفاء اور اَولیاء اور ماموروں کی مخالفت کی یہی وجہ ہے۔یہ قرآن کریم آیا اور اس نے ان کی کتابوں کی تصدیق کی اور وہی پہلے لوگوں سے بیان کیا کرتے تھے مگر جب قرآن شریف آیاکَفَرُوْابِہٖ انہوں نے اس کا انکار کر دیافَلَعْنَۃُ اﷲِ عَلَی الْکٰفِرِیْنَ تواﷲ سے وہ بعید ہو گئے۔ایک آدمی جب جھُوٹ بولنے لگتا ہے تو پہلے تو مخاطب کو کہتا ہے کہ میری بات کو جھُوٹا نہ سمجھنا مَیں تمہیں سچ سچ بتاتا ہوں مَیں تو جھُوٹے کو لعنتی سمجھتا ہوں مگر ہوتا در اصل وہ خود ہی جھُوٹا ہے۔(الفضل ۲۴؍دسمبر ۱۹۱۳ء صفحہ۱۵)    :یہ بہت بُری بات ہے۔وہ اﷲ کا انکار کرتے ہیں صرف بغاوت کی وجہ سے۔