حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 194
مُصَدِّقٌ:ایسے لوگوں کی وہ کتابیں تھیں جن میں کچھ باتیں آئندہ کی نسبت لکھی ہوئیتھیں۔قرآن کریم سے ان کی تصدیق ہو گئی۔چنانچہ تورات استثناء ۱۸:۱۸ میں مذکور ہے کہ جب حضرت موسٰیؑ کے ساتھ جانے والوں نے گھبرا کر کہا کہ اَے خدا !ہم تیری آواز سُننا نہیں چاہتے تو اﷲ تعالیٰ نے فرمایا کہ اَب وحی تم میں نہیں بلکہ تمہارے بھائیوں میں اُترے گی اور پھر اس رسول کے نشان بتائے۔(۱) وہ بُت پرستی کا دشمن ہو گا (۲) بنی اسرائیل کے بھائیوں میں سے ہو گا (۳) اپنا کلام اُسکے مُنہ میں ڈالوں گا۔(۴) جو کہے وہ مانیو ورنہ دُکھ پاؤ گے (۵) جو کہے گا وہ پورا ہو گا (۶) وہ موسٰیؑ کا مثل ہو گا۔اعمال حواریوں میں اِس مسئلہ کو بالکل حل کر دیا گیا ہے جہاں لکھا ہے کہ تم دعائیں کرو۔ضرور ہے کہ مسیحؑ کے دوبارہ آنے سے پہلے وہ باتیں پوری ہو جاویں جو ہمارے باپ دادا کو کہی گئیں۔اِس سے صاف ثابت ہے کہ یہ پیشگوئی مسیحؑ کے حق میں نہ تھی۔یَسْتَفْتِحُوْنَ:یہ باتیں تم کافروں پر کھولا کرتے تھے اور ان کے مقابلہ میں فتوحات کی دعائیں کیا کرتے تھے۔مَاعَرَفُوْا: دوسری جگہ فرمایا (البقرۃ:۱۴۷) (ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۲۵؍فروری ۱۹۰۹ء) وَ لَمَّا جَآئَ ھُمْ کِتٰبٌ مِّنْ عِنْدِ اﷲِ:جب ان کے پاس اﷲ کی کتاب آئی جو اس کتاب کی اَور پیشگوئیوں کی تصدیق کرتی ہیں جو تمہارے پاس ہیں۔تم نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی آمد آمد کی خبر دے رہے تھے جیسا مَیں نے اپنے زمانہ میں دیکھا کہ لوگ مہدی کے لئے رو رو کر دعائیں کرتے تھے مگر وہ آیا بھی اور چلا بھی گیا مگر کِسی کو خبر نہ ہوئی