حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 190
اپنے محلہ میں بُلا لیا اور وہاں ایک شخص کو سکھایا کہ جب دیوار کے پاس بیٹھے ہوں تو تم اُوپر سے چکّی کا پاٹ گِرا دو۔آپؐ کو ان کی بَد نیّتی کی خبر کسی نہ کسی طرح مِل گئی اِس لئے آپ یکدم اُٹھ کر چلے گئے اور ان کا داؤ نہ چل سکا۔یہ بات بڑھ گئی۔ان میں کچھ شاعر بھی تھے وہ مکّہ میں گئے اور وہاں کے سرداروں کو جا کر بھڑ کایا اور بعض نے مسلمان عورتوں سے تغزّل کیا۔اِس لئے بنو نضیر کو حکم ہؤا کہ یہاں سے چلے جاؤ جلا وطن کر دیا گیا حالانکہ ان سے معاہدہ کیا جا چکا تھا کہ وہ ایسے کام نہ کریں گے جس سے جلاوطنی کرنی پڑے۔ادھر مکّہ والوںنے پیغام بھیجا کہ تم ان مسلمانوں کی عورتوں کو مارو اور ہم باہر سے لشکر لے کر اُن پر حملہ کرتے ہیں۔چنانچہ وہ ایک اپنے ساتھ گِرد و نواح کی قوموں کو جمع کر لائے سورۃاحزاب میں اس کا ذکر ہے۔آخر خدا تعالیٰ نے اس لڑائی سے مسلمانوں کو بچا لیا۔جب وہ لوگ چلے گئے تو آپ نے بنو قریظہ سے پوچھا کہ تم پہلے دو واقعے قینقاع اور بنو نضیر کے دیکھ چکے ہو اور پھر بھی شرارتوں سے باز نہ آئے اور اب تمہارے حق میں ایک فیصلہ کرتا ہوں جو تمہیں ماننا پڑے گا۔بد قسمت انسان نیک کی بات کو نہیں مانتا اِس لئے انہوں نے کہا ہمیں سعد بن معاذ کا فیصلہ منظور ہے نہ آپ کا۔اس نے کہا میرے رائے تو یہ ہے کہ جنگ کے شرکاء کو قتل کر دیا جاوے۔یہ فیصلہ انہیں چارو نا چار منظور کرنا پڑا۔جن کو قتل کی سزا دی گئی ان کی تعداد کم از کم دو سو پچّاس اور زیادہ سے زیادہ نو سَو کی بتائی (گئی ہے)۔خیر یہودیوں کے فرقے تو اِس طرح تباہ ہوئے۔باقی رہے عیسائی ان کالاٹ پادری عامر تھا اُسنے لوگوں کو خوب سُنایا کہ مَیں نے محمد (صلی اﷲ علیہ وسلم) کو دیکھا ہے کہ وہ پراگندہ (حال) اور ملک بملک اکیلا پھرتا ہؤا مَر جائے گا۔آپ نے فرمایا خواب تو سچ دیکھا ہے مگر میرا نہیں اپنا بد انجام دیکھا ہے چنانچہ ایسا ہی ہؤا۔وہ مکّہ گیا اِس خیال سے کہ کچھ انتظام مسلمانوں کے خلاف کروں مگر وہاں اس نے شراب پی کر بدمستی کی تو نکالا گیا مگر روماؔ چلا گیا۔وہاں بادشاہ کو سکھایا مگر بادشاہ کسی امر پر ناراض ہؤا راتوں رات نکل بھاگنا پڑا اور آخر اسی طرح مارا گیا۔حدیث میںوَحِیْدًا وَّ طَرِیْدًا عَشَرِیْدًا آیا ہے۔اب میدان صاف تھا۔دو گروہ رہ گئے ایک منافقوں کا اور دوسرے مسلمانوں کا۔منافقوں کی نسبت اﷲ تعالیٰ نے فرمایا کہ اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الضَّلَالَۃَ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے ورلی زندگی کو اختیار کر لیا اِس لئے ان سے عذاب ہلکا نہ کیا جائے گا اور نہ وہ مدد دیئے جائیں گے چنانچہ جب ان لوگوں کی تباہی آئی کوئی ان کا حامی و ناصر نہ رہا۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۲۵؍فروری ۱۹۰۹ء) اﷲ تعالیٰ قرآن مجید میں نصیحت کرتا ہے بایں طور کہ جو اگلی قوموں کی بُرائیاں اور خوبیاں ہیں ان کا بیان کرتا ہے تاکہ مسلمان ان بُرائیوں سے بچیں۔اِس کا فائدہ یہ ہو گا کہ وہ ان عذابوں سے محفوظ