حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 17
سے باز رہنے کا نام ہے تو ضرور ہے کہ ہم جمعہ کو یا عید کے دن بھی روزہ رکھ لیا کریں تو ثواب ملے لیکن اِن ایّام میں روزہ رکھنے سے تو ثواب کی بجائے عذاب ہوتا ہے۔اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ مطلق روزہ اپنی ذات سے عبادت نہیں ہے۔اِسی طرح اگر نماز بہ ایں ہیئت کہ ہم ادا کرتے ہیں اگر عبادت ہے تو فجر کی دو رکعت کی بجائے اگر تین یا چار پڑھ لیں تو بھی ثواب ہونا چاہیئے بلکہ زیادہ ہونا چاہیئے کیونکہ محنت زیادہ ہوئی۔وہی کلمات ہیں جن کی تکرار کثرت سے کی گئی ہے مگر ظاہر ہے کہ دو کے بجائے ۴ تو درکنار صرف ایک رکن نماز ہی بڑھا دینے سے نماز باطل ہو کر موجبِ عذاب ہو جاتی ہے تو معلوم ہؤا کہ نماز مطلق اپنی ذات سے عبادت نہیں ہے۔پھر ہم معاشرت کو دیکھتے ہیں کہ وہی چہل پہل اور محبّت اور پیار اور راز و نیاز کی باتیں اور معاشرت کے حرکات ہیں کہ جب انسان اپنی منکوحہ بیوی سے معاشرہ کرتا ہے تو ثواب پاتا ہے لیکن جب ایک نامحرم عورت سے کرتا ہے تو عذاب کا مستحق ہے حالانکہ عورت ہونے میں تو بیوی اور نامحرم ایک ہی ہیں اور وہی حرکات ہیں۔تو اِن نظائر سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز روزہ معاشرت اور دیگر عباداتِ شرعیہ مطلق اپنی ذات اور ہیٔت کے لحاظ سے ہرگز نہیں ہیں بلکہ اِس لئے عبادت کا لفظ ان پر آتا ہے کہ یہ خدا تعالیٰ کے حکم سے کی جاتی ہیں اور جب ان میں ایک ذرا سی بات بھی اپنی طرف سے ملا دی جاوے تو پھر یہ عبادت نہیں رہتیں اور اسی سے یہ بات ظاہر ہو گئی کہ عبادت کے معنے اصل میں اطاعت کے ہی ہیں اور ہر قابلِ اطاعت چونکہ تعظِیم اور تعزیزکا مستحق ہوتا ہے اس لئے اِس کے معنے عظمت اور عزّت کے بھی ہیں۔ کاکلمہ خالص توحید کی طرف راہنمائی کرتا ہے کہ خدا تک پہنچنے کے واسطے صرف خدا کو ہی ذریعہ بنایا جاوے اور اس کلمہ کا قائل یہ اقرار کرتا ہے کہ وہ خدا شناسی کا مرحلہ طے کرنے کے واسطے کسی اَور شَے کو ذریعہ نہیں بناتا، نہ کسی بُت کو،نہ مخلوق کو۔نہ عقل کو، نہ عِلم کو اور اپنی ہر ایک اِحتیاج کے واسطے وہ خدا ہی کی طرف رجوع کرتا ہے۔(البدر ۱۶؍جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ ۹۵) َُنماز میں ہر روز محبوبِ حقیقی جامع جمیع کمالات، رحمن رحیم، حضرت ربّ العٰلمین، مالکِ یَوم الدّین کی تعریف کر کے آپ پڑھا کرتے ہو۔۔۔کے معنی ہیں تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور کریں گے۔یہ دعوٰی سب مسلمان رات دن کئی بار خداوندِ عالَم سے کرتے ہیں۔پیارے دیکھ اِس دعوٰی میں ہم