حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 184 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 184

ان کے لئے دعا کرے، صدقہ دے اور خیرات کرے۔ہماری جماعت کے بعض لوگوں کو غلطی لگی ہے۔وہ سمجھتے ہیں کہ مُردہ کو کوئی ثواب وغیرہ نہیں پہنچتا۔وہ جھُوٹے ہیں ان کو غلطی لگی ہے۔میرے نزدیک دعا، استغفار، صدقہ و خیرات بلکہ حج ، زکوٰۃ، روزے یہ سب کچھ پہنچتا ہے۔میرا یہی عقیدہ ہے اور بڑا مضبوط عقیدہ ہے۔ایک صحابی نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میری ماں کی جان اچانک نکل گئی اگر وہ بولتی تو ضرور صدقہ کرتی۔اَب اگر مَیں صدقہ کروں تو کیا اُسے ثواب ملے گا؟ تو نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا۔ہاں۔تو اس نے ایک باغ جو اس کے پاس تھا صدقہ کر دیا۔میری والدہ کی وفات کی تار جب مجھے ملی تو اُس وقت مَیں بخاری پڑھا رہا تھا۔وہ بخاری بڑی اعلیٰ درجہ کی تھی۔مَیں نے اس وقت کہا اے اﷲ میرا باغ تو یہی ہے تو پھر مَیں نے وہ بخاری وقف کر دی۔فیروز پور میں فرزند علی کے پاس ہے۔وَذِی الْقُرْبٰی: پھر حسبِ مراتب قریبیوں سے نیک سلوک کرو یتیموں اور مسکینوں سے نیک سلوک کرو۔قُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا:قَالَؔ کالفظ عربی زبان میں فَعَلَ کے برابر لکھا ہے بلکہ اس سے وسیع لکھا ہے اس سے کم ضَرَبَ کا لفظ لکھا ہے۔لوگوں کو بھلی باتیں کہو۔بدمعاملگیاں چھوڑ دو۔بدمعاملگیوں سے باز آجاؤ۔وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ واٰتُوا الزّکوٰۃَ :نمازیں پڑھو اور زکوٰۃ دیا کرو۔ثُمَّ تَوَلَّیْتُمْ اِلَّاقَلِیْلًا مِّنْکُمْ وَاَنْتُمْ مَُّعْرِضُوْنَ:تم پھر جاتے ہو۔باز نہیں آتے۔اگر کسی کا روپیہ ہاتھ میں آ گیا تو اسے شِیرِ مادر سمجھ لیا اور اسے دینے میں آتے ہی نہیں۔اﷲ تم پر رحم کرے۔(الفضل ۳؍دسمبر ۱۹۱۳ء صفحہ۱۵)