حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 183 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 183

عبادت کسے کہتے ہیں لوگوں کو اِس کے معنے نہیں آتے۔بعض اِس کے معنے بندگی کرنے کے کرتے ہیں اور بعض پرستش اور پُوجا کے کرتے ہیں۔اس کے کئی ارکان ہیں۔اﷲ تعالیٰ کی بے نظیر تعظیم جیسی اس کی تعظیم کرے اَور کسی کی نہ کرے۔مثلاً ہاتھ باندھنے ، اس کے آگے جھُکنا (رکوع) اس کے آگے سجدہ میں گِر جانا، حج کرنا،روزے رکھنا، اپنے مال میں سے ایک حِصّہ اس کے لئے مقرر کر دینا ، اُٹھنے بیٹھنے میں اُس کا نام لینا۔آپس میں ملتے وقت اس کا نام لینا جیسے السّلام علیکم و رحمتہ اﷲ اور اس کی تعظیم میں قطعًا دوسرے کو شریک نہ کریں۔دوسرا رکن۔اس کی محبّت کے مقابلہ میں کسی د وسرے سے محبت نہ کرنا۔تیسرا رکن۔اپنی نیازمندی اور عجزو انکساری کامل طور پر اس کے آگے ظاہر کرے۔چوتھا رکن۔یہ ہے کہ اس کی فرمانبرداری میںکمال کر دے۔ماں باپ، مُحسن و مربی، بھائی بہن، رسم و رواج اس کے مقابلہ میں کچھ نہ ہوں۔لَا تَجْعَلُوْا لِلّٰہِ اَنْدَادًا لَا تَعْبُدُوْا اِلَّا اﷲَ۔اﷲ کے سوا کِسی کی عبادت نہ کریں۔بعض روپیہ سے محبت کرتے ہیں۔جو لوگ چوری ، جھُوٹ، دغا سے کماتے ہیں وہ اﷲ سے نہیں بلکہ روپیہ سے محبت کرتے ہیں کیونکہ اگر اس کے دِل میں خدا کی محبت ہوتی ہے وہ ایسا نہ کرتا۔اس سے اُتر کر ماں باپ کے ساتھ احسان ہے۔بڑے ہی بد قِسمت وہ لوگ ہیں جن کے ماں باپ دُنیا سے خوش ہو کر نہیں گئے۔باپ کی رضامندی کو مَیں نے دیکھا ہے اﷲ کی رضامندی کے نیچے ہے اور اس سے زیادہ کوئی نہیں۔افلاطُون نے غلطی کھائی ہے۔وہ کہتا ہے ’’ ہماری رُوح جو اُوپر اور منزّہ تھی ہمارے باپ اسے نیچے گِرا کر لے آئے۔‘‘ وہ جھُوٹ بولتا ہے۔وہ کیا سمجھتا ہے کہ رُوح کیا ہے۔نبیوں نے بتلایا ہے کہ یہاں ہی باپ نطفہ تیار کرتا ہے پھر ماں اس نطفہ کو لیتی ہے اور بڑی مصیبتوں سے اسے پالتی ہے۔نو مہینے پیٹ میں رکھتی ہے۔بڑی مشقّت سے (الاحقاف:۱۶)اسے مشقّت سے اُٹھائے رکھتی ہے اور مشقّت سے جَنتی ہے۔اس کے بعد وہ دو سال یا کم از کم پونے دو سال اسے بڑی تکلیف سے رکھتی ہے اور اسے پالتی ہے۔رات کو اگر وہ پیشاب کر دے تو بستر کی گیلی طرف اپنے نیچے کر دیتی ہے اور خشک طرف بچّے کو کر دیتی ہے۔انسان کو چاہیئے کہ اپنے ماں باپ (یہ بھی مَیں نے اپنے ملک کی زبان کے مطابق کہہ دیا ورنہ باپ کا حق اوّل ہے اس لئے باپ ماں کہنا چاہیئے ) سے بہت ہی نیک سلوک کرے۔تم میں سے جس کے ماں باپ زندہ ہیں وہ ان کی خدمت کرے اور جس کا ایک یا دونوں وفات پا گئے ہیں وہ