حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 16 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 16

ہے اِس لئے ہم صرف تجھ سے ہی استعانت یعنی مدد اور دستگیری طلب کرتے ہیں۔بعض لوگ اِس مقام پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اوّل مقدّم ہونا چاہیئے تھا اور اس کے بعد کیونکہ عبادت کے لئے استعانت اﷲ تعالیٰ سے اوّل طلب کرنی چاہیئے۔اِس کا جواب یہ ہے کہ شرعی امور میں خدا تعالیٰ کا یہ قانون ہے کہ انسان اوّل خدا تعالیٰ کے عطا کردہ انعامات سے کام لے کر اس کا شُکریہ ادا کرے تو پھر اﷲ تعالیٰ اَور انعامات عطا کرتا ہے چنانچہ یہ امر نبی کریم صلّی اﷲ علیہ وسلم کی اِس حدیث سے بھی ثابت ہوتا ہے جس میں یہ بیان ہے کہ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر میرا بندہ میری طرف ایک بالشت بھر آوے تو مَیں ایک ہاتھ اسکی طرف آتا ہوں اور اگر وہ ہاتھ بھرچل کر آوے تو باع بھر چل کر آتا ہوں اور اگر چل کر آوے تو مَیں دوڑ کر آتا ہوں۔اِس کے علاوہ خود قرآن شریف نے اِس مضمون کو لیا جہاں فرماتا ہے (ابراہیم : ۸)۔پھر ایک اَور جگہ فرماتا ہے (محمد :۱۸)خدا تعالیٰ نے جو قوّتیں انسان کو دی ہیں ان سے تو اس نے ابھی کام لیا ہی نہیں تو اس کو اَور زیادہ مانگنے کی کیا ضرورت پڑ گئی اور ایسی حالت میں کیوں خدا تعالیٰ اسے اَور دیوے۔ایسی صورت میں تو اگلا دیا ہؤا بھی واپس لے لینا چاہیئے کیونکہ اس سے کام نہیں لیا گیا اور خداداد نعمت کی قدر نہ کی گئی۔تو کے یہ معنے ہیں کہ انسان اعتراف کرتا ہے اور عمل کر کے دکھلاتا ہے کہ اے مَولیٰ!جس قدر تُو نے اپنے فضل سے عطا کیا ہے اس سے تو کام لے رہا ہوں اور موجودہ نعمت کو زوال سے محفوظ رکھنے اور اس میں بڑھتی چاہنے کے لئے تیری ذات پاک سے استعانت طلب کرتا ہوں۔گویا اِن آیات کی ترتیب ایک طبعی ترتیب ہے جس کے بدلنے سے لازم آتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا موجودہ قانونِ قدرت ایک احسن اور ابلغ نظام پر نہیں ہے۔عبادت کے معنے ہیں عاجزی ،اِنکساری سے فرمانبرداری کرنا۔عبادت کے مفہوم میں اِس نکتہ کو ضرور یاد رکھنا چاہیئے کہ نماز اور روزہ اور دیگر معروفہ عبادات جس ہَیٔت اور طرز سے ادا کی جاتی ہیں اس کے خلاف ہَیٔت اختیار کرنے سے ممکن نہیں کہ ان پر ثواب ملے یا رضائے الٰہی کا موجب ہوں۔مثلاً یہ روزہ جو کہ ہم رکھتے ہیں اگر ایک خاص وقت تک کھانے پینے