حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 172 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 172

بے داغ۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۲۵؍فروری ۱۹۰۹ء)انبیاء بنی اسرائیل شرک اور بُت پرستی کے دشمن تھے۔بعض نادان فرقوں میں ایک گائے کی پرستش ہوتی تھی اور وہ ان میں درشنی گائے تھی۔چنانچہتَسُرُّ النّٰظِرِیْنَ اورلَا ذَلُوْلٌ تُثِیْرُ الْاَرْضَ وَ لَا تَسْقِی الْحَرْثَ مُسَلَّمَۃٌ لَّا شِیَۃَ فِیْھَا (سے)اس کا صاف پتہ لگتا ہے۔اس کا ذبح کرنا بُت پرستی کی جَڑ کاٹنی تھی۔(نورالدین ایڈیشن سوم صفحہ ۱۶۸) فرعون… کے آباء و اجداد گائے کی پرستش کرتے تھے۔اسکندریہ میں ایک لائبریری تھی اس کو بروچیم کہتے تھے۔بروچیم بَیل کا نام ہے۔اِس لائبریری کے آگے ایک بَیل بنا ہؤا تھا لائبریری کی حفاظت کے لئے۔مؤرخوں کا اِس میں اختلاف ہے کہ بنی اسرائیل مصر میں ڈھائی سَو سال رہے یا چار سَو سال۔خیر یہ تمہاری دلچسپی کی بات نہیں۔اور فرعون کے سر کا تاج بھی گؤ مکھی کا تھا اور اس کا ثبوت قُرآن سے یُوں ملتا ہے کہ جب بنی اسرائیل وہاں سے آئے تو یار بن کر سیّد نا موسٰی علیہ السّلام کے زیرِ اثر تھے۔سیّدنا موسٰی علیہ السّلام کے بعد انہوں نے بچھڑے کی پرستش کی۔گائے کو تو پہلے ہی مانتے تھے… انبیاء کو تو شِرک سے نفرت ہی ہوتی ہے۔موسٰی علیہ السّلام کو بچھڑے کی پرستش بُری لگی… سیّدنا موسٰی علیہ السّلام نے فرمایا کہ گائے کی قربانی کرو۔عادت بُری بَلاہے۔لگے ہیچ پیچ بنانے۔سیدھی بات تھی گائے ذبح کر دیتے… موسٰیؑ اِتنا بڑا اولوالعزم نبی تھا کتنے نشان دکھلائے۔فرعون کی غلامی سے بچایا۔یَدِبیضاء عصا، جراد،وباء حمل، طوفان وغیرہ وغیرہ دکھائے۔فرعون غرق ہؤا۔اسی دریا سے بنی اسرائیل بچ کر نکل آئے۔ان کے دِل میں کوئی اَدب معلوم نہیں ہوتا اور کہنے لگے کیا آپ ہنسی کرتے ہیں۔کہا اَعُوْذُ بِاﷲِ یہ تو جاہلوں کا کام ہے۔ہماری سرکار نے فرمایا، صلّی اﷲ علیہ وسلّم، کہ مَیں تم سے بڑا عالم اور متّقی ہوں۔ٹھٹھا یا مخول کرنا عالم کا کام نہیں۔مجھے یاد نہیں کہ کبھی درس میں یاطِبّ میں ٹھٹھا کیا ہو۔وہ بدمعاش خوب سمجھتے تھے کہ سیّد ناموسٰیؑ کی کیا غرض تھی مگر رسم کے خلاف کرنا بھی مشکل تھا اِسی لئے خوئے بدرا بہانہ ہا بسیار کہتے ہیں۔اُدْعُ لَنَارَبَّکَ یُبَیِّنْ لَّنََا مَاھِیَ: یہ تمسخر ہے۔جواب ملا گائے ہے، نہ بچھیا ہے اور نہ بڑھیا اور جوان ہے جو حُکم ہؤا ہے اس پر عمل کرو۔شریر پابند رسوم و عادات بھلا کیسے جلد سیدھا ہو۔لگے پوچھنے کہ اس کا رنگ کیسا ہو۔علاج تو یہ تھا کہ دو جُوت لگا دیتے مگر انبیاء رحیم کریم ہوتے ہیں تو انہوں نے فرمایا کہ زرد رنگ اور شوخ ڈھڈھا رنگ ہے یعنی گُوڑھا گورا۔خوش کرتی ہے دیکھنے والوں کو۔