حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 15
میں داخل ہے کہ جزا اور بدلے کے لئے ہوشیار اور سزا سے مضائقہ کرتا ہے… کوئی نہیں چاہتا کہ محنت کا بدلہ نہ ملے اور بچاؤ کا سامان نہ ہو۔پس جب یہ فطرتی امر ہے تو اس کو بھی اﷲ تعالیٰ نے ایمان کا جُز و رکھا ہے کہ جزا و سزا پر ایمان لاؤ اور ِ ہے۔روزِ روشن کی طرح اس کی جزائیں سزائیں ہیں اور وہ مخفی نہ ہوں گی اور مالکانہ رنگ میں آئیں گی جیسے مالک اچھے کام پر انعام اور بُرے کام پر سزا دیتا ہے اِس حصّہ پر ایمان لا کر انسان کامیاب ہو جاتا ہے مگر اس میں سُستی اور غفلت کرنے سے ناکام رہتا ہے اور قُربِ الٰہی کی راہوں سے دُور چلا جاتا ہے۔(الحکم ۱۷جنوری ۱۹۰۳ء نیز تشحیذالاذہان ماہِ ستمبر ۱۹۱۳ء) کلام تین قِسم کا ہوتا ہے (۱) عرضی نویس کسی قانون کے ناواقف کی طرف سے عرضی لِکھ دیتا ہے (۲) متکلّم اپنے رنگ میں ادا کرتا ہے (۳) کبھی حاکم سمجھا دیتا ہے کہ اِس قِسم کی عرضی لِکھ دو قرآن میں تینوں قِسم کے کلام موجود ہیں۔پس ایاک نعبد و ایاک نستعین ایک ایسی عرضی ہے جسے حق سُبحانہ‘ نے خود سمجھایا ہے کہ ہمارے حضور پوری عرضی دو۔(تشحیذالاذہان ماہِ ستمبر ۱۹۱۳ء) اِیَّا ؔضمیر ہے۔واحد،تثنیہ، جمع مذکّر اور مؤنث، غائب، مخاطب،متکلّم،سب کے لئے آتی ہے۔فرق کے لئے اس کیساتھ ہ،ھا،ھما،ھم،ھُنّ،کَ،کِ،کُمَا،کُم،کنّ،ی،نا لگایا جاتا ہے۔یہاں پر یہ ضمیر خطاب ہے اور مخاطَب اﷲ ہے۔عبادت کہتے ہیں اعلیٰ درجہ کی تعظیم کے ساتھ لوازمِ عبودیّت بجا لانے کو۔عبادت کے لئے چار چیزوں کی ضرورت ہے محبّت،خضوع،کمال ِتصرّف کا یقین یا بالفاظِ یُوں کہنا چاہیئے کہ امید و بیم کے یقین اور جوشِ محبّت کے ساتھ خضوع کرنے کو عبادت کہتے ہیں۔(رسالہ تعلیم الاسلام قادیان جلد اوّل نمبر۱ بابت جولائی ۱۹۰۶ء) جب…کاملہ صفات سے متّصف معبود کی ہستی پر آگاہی ہوتی ہے تو ایک سلیم القلبِ انسان بے اختیار بول اُٹھتا ہے۔خصوصیّت کے ساتھ ایسی ہی ذاتِ پاک ہر ایک قِسم کی عظمت اور پرستش کے قابل ہے۔اے مَولیٰ ! ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور چونکہ اِس عالَم کے ایک ایک ذرّہ پر تیری ربوبیّت کام کر رہی ہے اور تُو ہی مرتبٔہ کمال تک پہنچانے والا