حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 167 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 167

:چونکہ اس وقت ایک مذہبی جنگ شروع تھی اِس واسطے تمام قومیں خوف کی حالت میں تھیں کہ خدا جانے ہمارا مذہب اور ہماری عزّت باقی رہتی ہے یا نہیں۔اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو مومن ہیں ان کا نشان یہ ہے کہ ان کے لئے کوئی ڈر نہیںاور ان میں حزن باقی نہ رہے گا۔(ضمیمہ اخبار بدرؔقادیان ۱۸؍فروری ۱۹۰۹ء) بعض لوگ قُرآن مجید کی اِس آیت  (البقرۃ:۶۳) سے غلط فہمی میں پڑے ہیں۔ان کا اعتقادیہ ہے کہ جو لوگ مسلمان ہوں،یہودی ہوں،صابی ہوں،جو ایمان لائیں اﷲ پر اور روزِآخرت پر اور عمل کریں نیک۔پس ان کے لئے رَبّ کے حضور اَجر ہے۔نہ ان کو خوف ہے نہ حُزن۔طلب یہ ہے کہ پس اﷲ کو مان لینا اور روزِ آخرت پر ایمان نجات کے لئے کافی ہے مگر یہ ان کی غلطی ہے کیونکہ قرآنِ مجید کے متعدّد مقامات پر اِس مسئلہ کو واضح کیا گیا ہے کہ یومِ آخرت پر ایمان کِن لوگوں کو نصیب ہوتا ہے۔(تشحیذالاذہان جلد ۷ نمبر۷ صفحہ ۳۲۴)   اور جب لیا ہم نے مضبوط وعدہ تمہارا اور اُوپر رکھا تم پر طُور کو۔لو جو دیا ہم نے تمہیں قوّت سے اور عمل کرو جو اس میں ہے تاکہ تم متّقی بن جاؤ۔دوسرے مقام پر رَفَعْنَا کے بدلہ آیا ہے(الاعراف:۱۷۲) مجاہد جو قرآن کے معافی بیان کرنے میں عظیم الشّان تابعی ہے اس نے کہا ہے نَتَقْنَا کے معنے زَعْزَعْنَا کے ہیں۔زَعْزَعْنَا کے معنے ہوئے ہلا دیا ہم نے۔اور فرّاء نے کہا ہے نَتَقْنَا کے معنی رَفَعْنَا کے ہیں اور رَفَعْنَا کے معنے ہیں اُوپررکھا ہم نے۔کیا تم نے نہیں سُنا کہ راویؔ لاہورؔ کے نیچے بہتی ہے اور لاہورؔ راویؔ کے اُوپر آباد ہے۔ٹیمس لندن کے نیچے بہتا ہے۔پہاڑوں میں ایسے