حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 156 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 156

      جَھْرَۃً: خدا کو کُھلا دیکھ لیں یا یہ بات کُھل کر کہہ دی۔مَوْتِکُمْ: غشی ازصاعقہ۔ظَلَّلْنَا عَلَیْکُمُ الْغَمَامٰ: مصیبتوں کے وقت بادلوں کا سایہ بھیجا۔مَنّ: جو رزق بِلا محنت کسی انسان کو ملے۔اَلْکَمِئَۃُ مِنٰ الْمَنِّ (کھمبی) لڑکے جو روٹی کھاتے ہیں میرے خیال میں وہ بھی منّ ہے کیونکہ ان کو وجہ معاش کے لئے کچھ پریشانی نہیں اُٹھانی پڑتی۔سَلْوٰی: عربی زبان میں شہد کو بھی کہتے ہیں جو جنگلوں میں بافراط مِل جاتا تھا اور چھوٹے چھوٹے پرندوں کو بھی کہتے ہیں۔ظَلَمُوْنَا: ہمارا نقصان نہیں کیا۔(ضمیمہ اخبار بدرؔقادیان ۱۸؍فروری ۱۹۰۹ء) نَرَی اﷲَ جَھْرَۃً: یہ گستاخی کی۔اَلصَّاعِقَۃٌ:عذاب (تشحیذالاذہان جلد ۸ نمبر ۹ صفحہ۳۴۷) سخت محنت کے بغیر جو رزق ملتا ہے اس کو عربی میں منّکہتے ہیں اِس لئے لکھا ہے اَلْکَمْأۃُ مِنَ الْمَنََّّ یعنی کُھنبی منّ سے ہے اور ترنجبین۔اور اسی کے معنے ہیںشیرخشت اور تمام جنگل کی اشیاء۔اِن سب کو منّؔ میں داخل کیا گیا ہے۔ایک دفعہ پنچاب میں قحط پڑا تھا۔بہت بُڈھے ابھی تک اس کو جاننے