حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 155
باوجود اس کے شیعہ کو دیکھ کر سُنّی بھی محرّم میں روتے پیٹتے ہیں اور تعزئے بناتے ہیں۔مَیں نے تعزیے بنانے والوں کو پُوچھا ہے کہ یہ واقعی امام حسینؑ کی قبر ہے تو وہ کہتے ہیں۔نہیں۔پھر جب یہ جتایا گیا کہ جو دن امام حسینؑ کے قبر بنانے کا ہے اس دن تم اس قبر کو توڑتے ہو تو وہ بہت نادم ہوئے۔غرض انسان کی غیرت اُٹھ جاتی ہے اور وہ بدی کو نیکی سمجھنے لگ جاتا ہے۔یہاں بنی اسرائیل نے بھی ایسا ہی کیا کہ فرعونیوں میں رہتے رہتے وہ اپنے خدا کو بھُول گئے اور گائے کی عظمت ان کے دِلوں میں گھر کر گئی اور وہ اس کی پُوجا کرنے لگ گئے تو خدا نے فرمایا تُوْبُوْ ٓا اِلٰی بانارِئِکُمْ تم اپنے گھڑنے والے کی پرستاری کرو۔فَاقْتُلُوْ ٓا اَنْفُسَکُمْ: اِس کے معنے میرے نزدیک یہ ہیں کہ اِس جُرم کے جو سرغنہ ہیں ان کو قتل کر دو۔جو عام تھے ان کو خدا نے معاف فرما دیا جیسے کہ آگے فرمایا فَتَابَ عَلَیْکُمْ۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۸؍فروری ۱۹۰۹ء) اَلْفُرْقَانَ: جب دشمن کی کمر ٹوٹ جائے۔ (الانفال:۴۲) بڑے تعجّب کی بات ہے کہ لوگ شرارتیں کرتے ہیں لیکن سمجھتے نہیں۔موسٰیؑ نے اپنی قوم کو کہا (البقرۃ:۵۵)تم نے بچھڑے کو خدا بنا لیا اور اپنے اُوپر ظلم کیا حالانکہ خدا کے تم پر بڑے بڑے اِحسان ہیں۔فَتُوْبُوْ ٓا اِلٰی بَارِئِکُمْ اپنے پروردگار کی طر ف توجّہ کرو اور اﷲ نے انسان پر بڑے بڑے فضل و احسان کئے ہیں۔اس کے قابو میں انسان نے ہر چیز کر دی ہے۔ہاتھی جیسا بڑا جانور انگوٹھے کے اشارہ پر چلتا ہے۔اُونٹ کو ایک نکیل کے اشارہ سے چلا لیتا ہے۔اِسی طرح پر ہزاروں کام جانوروں سے نکالتا ہے۔طوطے سے توپ بندوق چلوا لیتا ہے۔بعض لوگ اَحْسَن تَقْوِیْم کے یہ معنے کرتے ہیں کہ انسان کو خوبصورت بنایا مگر بعض انسان تو سیاہ رنگ اور بَد صورت بھی ہوتے ہیں بلکہ اِس کے معنے یہ ہیں کہ ہر چیز کو اس کے قابومیں کر دیا۔سرکس میں کسی نے تماشا دیکھا ہو گا کہ کیسے کیسے کام جانوروں سے لیتے ہیں۔یہ سب اﷲ تعالیٰ کے اِحسان ہیں۔ہر قوم میں غریب سے غریب اور امیر سے امیر لوگ موجود ہیں لیکن اُمراء کو خیال تک نہیں آتا کہ ہم پر بڑا احسان ہؤا ہے۔اِس زمانہ کا بڑا بچھڑا روپیہ ہے جس کے پاس یہ ہؤا اس کی بڑی عزّت و توقیر ہوتی ہے۔اگر وہی روپیہ والا اِنسان غریب ہو جاوے تو اُسے پوچھتا بھی کوئی نہیں۔روپے کے پیچھے خواہ نماز روزہ بھی جائے مگر کوئی پرواہ نہیں۔(الفضل ۱۵؍اکتوبر ۱۹۱۳ء صفحہ ۱۵)